LIVE
Loading Breaking News...

امریکی سینیٹ نے مغربی کنارے میں ہلاکتوں کی رپورٹ سے متعلق قرارداد مسترد کر دی

News Image
امریکی سینیٹ نے مغربی کنارے میں جاں بحق ہونے والے امریکی شہریوں کے بارے میں تفصیلی رپورٹ طلب کرنے والی قرارداد کو ووٹنگ کے بعد بلاک کر دیا۔ اس قرارداد میں اسرائیلی حکومت کی طرف سے احتساب کے فقدان اور امریکی نااہلی پر روشنی ڈالی گئی تھی۔
امریکی سینیٹ نے ایک اہم ووٹنگ کے دوران اس قرارداد کو بلاک کر دیا ہے جس کا مقصد مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی کارروائیوں کے دوران ہلاک ہونے والے امریکی شہریوں کے بارے میں ایک تفصیلی سرکاری رپورٹ طلب کرنا تھا۔ اس قرارداد کا بنیادی مقصد خطے میں ہونے والے جانی نقصان اور امریکی شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا جائزہ لینا تھا۔ اس قرارداد کے حامیوں کا مؤقف تھا کہ اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ امریکی شہریوں کی سلامتی کو یقینی بنایا جائے اور ان کی ہلاکتوں کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں لایا جائے۔ قرارداد کے متن میں اسرائیل کی موجودہ حکومت کی جانب سے احتساب کے شدید فقدان پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ، اس میں امریکی انتظامیہ کی جانب سے انصاف کے حصول میں ناکامی اور کمزور رویے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ قرارداد کے محرکین کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کو اپنے شہریوں کے قتل پر خاموشی اختیار کرنے کے بجائے سخت مؤقف اپنانا چاہیے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کی جا سکے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف مل سکے۔ تاہم، سینیٹ میں اکثریت نے اس قرارداد کی مخالفت کی جس کے نتیجے میں یہ ناکام ہو گئی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس فیصلے سے واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات کی نوعیت اور اس کے اثرات پر ایک بار پھر بحث چھڑ گئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی قراردادوں کا مسترد ہونا امریکی خارجہ پالیسی میں دوہرے معیار کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ حامیوں نے یقین دلایا ہے کہ وہ امریکی شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی کوششیں آئندہ بھی جاری رکھیں گے۔