World
اسدی تئیمان میں ہڑتال کرنے والے چودہ اسرائیلی فوجیوں کو قید
اسرائیل میں فوجی جیل سے غیر مجاز طور پر باہر نکلنے اور ہڑتال کرنے پر چودہ فوجیوں کو سزائیں سنا دی گئی ہیں۔ یہ واقعہ سدی تئیمان کے فوجی کیمپ پر پیش آیا جہاں حالیہ مہینوں میں کافی کشیدگی دیکھی گئی ہے۔
تل ابیب: اسرائیلی فوج نے ایک اہم کارروائی کے دوران چودہ فوجیوں کو فوجی جیل کی سزا سنا دی ہے۔ ان فوجیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے سدی تئیمان کے معروف اور متنازع فوجی کیمپ سے غیر مجاز طور پر واک آؤٹ کیا تھا اور ڈیوٹی چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ یہ واقعہ اسرائیلی فوج کے اندر نظم و ضبط کی خلاف ورزی اور بڑھتے ہوئے تناؤ کی عکاسی کرتا ہے۔ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ اس قسم کی سرگرمیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور قانون کی پاسداری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
سدی تئیمان کا کیمپ حالیہ مہینوں میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی سطح پر بھی شدید تنقید کی زد میں رہا ہے۔ یہاں زیر حراست افراد کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے الزامات کے بعد سے کیمپ کی صورتحال انتہائی حساس بنی ہوئی ہے۔ اس ماحول کے درمیان فوجیوں کی جانب سے کی جانے والی اس غیر قانونی ہڑتال اور واک آؤٹ نے عسکری قیادت کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، جس کے بعد فوری طور پر ان کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی گئی۔
فوجی عدالت کی جانب سے سنائے جانے والے فیصلوں کے تحت تمام چودہ فوجیوں کو مقررہ مدت کے لیے فوجی جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ اس سخت فیصلے کا مقصد فوج کے اندر نظم و ضبط کو بحال رکھنا اور کسی بھی قسم کی بغاوت یا غیر قانونی اقدام کو روکنا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ واقعہ اسرائیلی عسکری نظام کے اندرونی چیلنجز اور موجودہ جنگی صورتحال کے اثرات کو ظاہر کرتا ہے جن کا سامنا فوج کو کرنا پڑ رہا ہے۔