LIVE
Loading Breaking News...

یمن میں حوثی میزائل حملہ اور شدید جھڑپیں، تازہ ترین صورتحال

News Image
یمن کے صوبہ لحج میں حکومتی فوجی اڈے پر حوثی میزائل حملے کے بعد پہاڑی علاقوں میں لڑائی شدید ہو گئی ہے۔ باب المندب کے قریب خونریز جھڑپوں میں کم از کم 44 افراد ہلاک جبکہ حوثیوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
یمن میں سرکاری فورسز اور حوثی باغیوں کے درمیان جاری کشیدگی میں اس وقت انتہائی خطرناک موڑ آ گیا جب صوبہ لحج میں واقع ایک اہم حکومتی فوجی اڈے کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ملک کے مختلف پہاڑی علاقوں میں دونوں فریقین کے درمیان زمینی جھڑپیں اور عسکری کارروائیاں انتہائی شدت اختیار کر چکی ہیں۔ مبصرین کے مطابق، یہ حالیہ تصادم یمن کے طویل تنازع میں ایک نئے اور خونریز باب کا آغاز ثابت ہو رہا ہے۔ علاقائی ذرائع اور سرکاری فوجی ذرائع کے مطابق، یمنی فوج نے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران حوثی اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے سینکڑوں کی تعداد میں جوابی حملے کیے ہیں۔ فوجی حکام کا دعویٰ ہے کہ صرف ایک دن میں چار سو سے زائد آپریشنز کیے گئے جن کا مقصد باغیوں کی پیش قدمی کو روکنا اور اہم اسٹریٹجک مقامات کا دفاع کرنا تھا۔ اس کے علاوہ، باب المندب کے اسٹریٹجک آبنائے کے قریب ہونے والی شدید جھڑپوں کے نتیجے میں کم از کم چوالیس افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی ہے، جس سے خطے میں انسانی بحرین کے مزید گہرے ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ دوسری جانب، ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ چند دنوں کے دوران ہونے والی لڑائی میں حوثی باغیوں کو بھاری جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے، اور بعض اطلاعات کے مطابق چار دن کے اندر حوثیوں کی ہلاکتیں ہزاروں تک پہنچ چکی ہیں۔ حکومت نواز فورسز نے ملک کے مختلف محاذوں پر اپنے حملوں کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا ہے تاکہ باغیوں کو دفاعی پوزیشن پر دھکیلا جا سکے۔ بین الاقوامی برادری اور خطے کے ممالک یمن میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں نے تمام فریقین سے فوری طور پر جنگ بندی اور کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ عام شہریوں کو مزید جانی و مالی نقصان سے بچایا جا سکے، تاہم فی الحال دونوں اطراف سے جنگی جنون میں کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔