World
خامنہ ای کا ایرانی طاقت کا وژن اور زمینی حقائق کا چیلنج
ایرانی سپریم لیڈر کا وژن اور خطے میں امریکی موجودگی ایک بار پھر سنگین چیلنجز سے دوچار ہے۔ تہران کی قیادت نے واضح کیا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات نہیں کرے گی۔
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی طرف سے پیش کردہ خطے میں ایرانی اثر و رسوخ اور طاقت کے طویل المدتی وژن کو اس وقت شدید زمینی حقائق کا سامنا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق تہران کی حکومت اندرونی و بیرونی محاذوں پر سخت چیلنجز سے نبرد آزما ہے، تاہم اس کے باوجود ایرانی قیادت اپنے مؤقف پر چٹان کی طرح مضبوطی سے قائم ہے۔ ایرانی حکام نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ موجودہ حالات میں واشنگتن کے ساتھ کسی بھی قسم کے براہ راست مذاکرات کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ایرانی قیادت کا ماننا ہے کہ دباؤ کی پالیسی کے تحت تہران کو جھکایا نہیں جا سکتا۔ دوسری جانب خطے میں امریکی عسکری موجودگی اور خلیجی ریاستوں میں طاقت کے توازن کو لے کر کشمکش بدستور جاری ہے۔ ایرانی عسکری اور سیاسی شخصیات کی جانب سے بھی یہ بیانات سامنے آئے ہیں کہ غیر ملکی افواج بالخصوص امریکہ کو بالاآخر اس خطے سے نکلنا ہو گا کیونکہ خطے کے سیکیورٹی معاملات میں بیرونی مداخلت مزید عدم استحکام کا باعث بن رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کا یہ سخت گیر مؤقف اور اس کا دفاعی وژن ایک ایسے وقت میں پرکھا جا رہا ہے جب معاشی دباؤ اور سفارتی تنہائی بھی تہران کے لیے بڑے مسائل بنے ہوئے ہیں۔ اس تمام صورتحال میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ ایران اپنی موجودہ پالیسی کے ذریعے کس طرح خطے میں تزویراتی برتری قائم رکھ پاتا ہے اور آنے والے دنوں میں عالمی طاقتوں کے ساتھ اس کے تعلقات کا رخ کیا ہو گا۔