LIVE
Loading Breaking News...

ایرانی قانون ساز کا دعویٰ: امریکا خطہ چھوڑنے پر مجبور ہوگا

News Image
ایرانی پارلیمنٹ کے ایک سینئر قانون ساز نے کہا ہے کہ امریکا کو ناگزیر طور پر مشرق وسطیٰ کے خطے سے نکلنا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے کے مستقبل کا فیصلہ یہاں کے ممالک نے کرنا ہے جبکہ اسرائیل کے دن گنے جا چکے ہیں۔
تہران: ایرانی پارلیمنٹ کے ایک اہم قانون ساز اور حکام نے زور دے کر کہا ہے کہ امریکا کو ناگزیر طور پر اس خطے سے اپنا بوریا بستر گول کرنا پڑے گا اور خطے کی سلامتی کا مستقبل اب یہاں کے مقامی ممالک کے ہاتھ میں ہے۔ ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس عزم کا اعادہ مختلف اعلیٰ سطحی بیانات میں کیا گیا ہے جن میں خطے کی بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ایرانی حکام کا ماننا ہے کہ خطے میں بیرونی مداخلت کا وقت اب ختم ہو رہا ہے۔ ایرانی رہنماؤں کی جانب سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ اسرائیل کے دن اب گنے جا چکے ہیں اور اس کی جارحیت طویل عرصے تک برقرار نہیں رہ سکتی۔ تہران کا مؤقف ہے کہ علاقائی استحکام اور پائیدار امن صرف اس صورت میں ممکن ہے جب بیرونی طاقتیں بالخصوص ریاستہائے متحدہ امریکا یہاں سے مکمل طور پر انخلا کر لیں۔ ایرانی فوجی مشیروں اور قانون سازوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں خطے کے ممالک خود اپنی سکیورٹی کا نظام تشکیل دیں گے۔ اس تناظر میں ایران نے اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعاون بڑھانے اور خطے کے اہم امور میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ تہران کا عزم ہے کہ وہ خطے کی سلامتی کے مستقبل کو اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر شکل دے گا تاکہ بیرونی تسلط کے خاتمے کو یقینی بنایا جا سکے۔ عالمی سیاسی مبصرین کے مطابق، ایرانی حکام کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے اور خطے کے اندرونی اور بیرونی طاقتوں کے درمیان رسہ کشی جاری ہے۔