LIVE
Loading Breaking News...

صومالی قزاقوں کا حملہ، تیل بردار جہاز کے عملے کے ارکان جاں بحق

News Image
صومالی بحری قزاقوں کے قبضے سے تیل بردار جہاز کو چھڑانے کے لیے کیے گئے ریسکیو آپریشن کے دوران عملے کے ارکان کی ہلاکت کی تصدیق کر دی گئی ہے۔ اس واقعے میں پاکستانی شہریوں سمیت عملے کے پانچ افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق صومالی بحری قزاقوں نے تیل بردار جہاز پر دھاوا بولنے اور اسے اغوا کرنے کے بعد ریسکیو آپریشن شروع ہونے سے پہلے ہی عملے کے کئی ارکان کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ دفتر خارجہ اور مقامی حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ قزاقوں کے اس لرزہ خیز اقدام میں جاں بحق ہونے والوں میں پاکستانی شہریوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ یہ واقعہ بحری سکیورٹی کے حوالے سے ایک بڑا سوالیہ نشان بن گیا ہے جہاں صومالی ساحلوں کے قریب تجارتی جہاز رانی ایک بار پھر شدید خطرات کی زد میں آ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق پنٹ لینڈ کی فورسز نے اغوا شدہ جہاز کو بازیاب کرانے کے لیے ایک بھرپور ریسکیو آپریشن کا آغاز کیا تھا، تاہم اس کارروائی سے قبل ہی قزاقوں نے جہاز کے اندر اندھا دھند تشدد اور فائرنگ کرتے ہوئے عملے کے ارکان کو نشانہ بنایا۔ وزارت خارجہ کے حکام نے بتایا ہے کہ اس المناک واقعے میں مجموعی طور پر پانچ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جن میں کم از کم تین پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔ اس ہولناک واقعے کے بعد دنیا بھر میں تجارتی جہازوں کی حفاظت اور بحری قزاقی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے خلاف عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مختلف ممالک کے اہل خانہ اپنے پیاروں کی سلامتی اور لاشوں کی واپسی کے لیے حکام سے فوری اور مؤثر اقدامات کی اپیل کر رہے ہیں۔ بھارتی ملاح کے لواحقین نے بھی اپنے پیارے کی ہلاکت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے فوری مدد کی اپیل کی ہے۔ بین الاقوامی بحری سکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ صومالیہ کے ساحلی علاقوں میں قزاقوں کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے مزید سخت اور مربوط حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسے اندوہناک واقعات کا سدباب کیا جا سکے اور سمندر میں سفر کرنے والے معصوم عملے کی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔