World
عراق سے امریکی اور برطانوی افواج کا انخلا مکمل، داعش کے خلاف مشن ختم
عراق میں داعش کے خلاف قائم بین الاقوامی اتحادی مشن کے اختتام کے بعد آخری برطانوی اور امریکی فوجی بھی عراقی سرزمین سے روانہ ہوگئے ہیں۔ عراقی قیادت نے اسے ملکی خودمختاری کا ایک نیا دور قرار دیا ہے جبکہ سیکورٹی خلاء کے حوالے سے خدشات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔
عراق سے غیر ملکی افواج کا انخلا کا عمل مکمل ہو گیا ہے جہاں برطانوی اور امریکی فوجیوں کے آخری دستے بھی ملک چھوڑ کر روانہ ہو چکے ہیں۔ اس پیش رفت کے ساتھ ہی عراق میں شدت پسند تنظیم داعش کے خلاف طویل عرصے سے جاری عسکری مشن باضابطہ طور پر اپنے انجام کو پہنچ گیا ہے۔ برطانوی اور امریکی افواج کے انخلا کے بعد عراقی وزیر اعظم نے اسے ملک کی تاریخ میں خودمختاری کا ایک نیا اور اہم دور قرار دیا ہے، جس سے ملک میں سیاسی اور عسکری خودمختاری کو مزید استحکام ملنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب، اس انخلا کے موقع پر عراقی عوام اور مبصرین میں خوشی کے ساتھ ساتھ سکیورٹی کے ممکنہ خلاء کے حوالے سے خدشات بھی پائے جاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر ملکی فوجیوں کے جانے کے بعد عراقی سکیورٹی فورسز کو اکیلے ہی ملک کی حفاظت اور سکیورٹی کے چیلنجز سے نمٹنا ہوگا، جو ایک بڑا امتحان ثابت ہو سکتا ہے۔ پینٹاگون کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بھی عراق میں عسکری مشن کے خاتمے اور فوجیوں کی واپسی کی باضابطہ تصدیق کی گئی ہے۔ اس تاریخی موقع پر عراقی رہنما مقتدیٰ الصدر نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ کو طویل جنگ کے دوران عراقی عوام کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ کرنا چاہیے اور جنگ سے متاثرہ ملک میں معاشی بحالی کے لیے تعاون فراہم کرنا چاہیے۔ واضح رہے کہ اس انخلا کے بعد خطے میں طاقت کے توازن اور سکیورٹی کی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے، اور بین الاقوامی برادری اس پیش رفت کو انتہائی غور سے دیکھ رہی ہے۔