World
خوراک کا ضیاع اور موسمیاتی تبدیلی: پلیٹ صاف رکھنے کی مہم
اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے خوراک کے ضیاع کو روکنے کے لیے مسلسل اقدامات پر زور دے رہے ہیں۔ روتی ہوئی خوراک اور ضائع ہونے والا کھانا کرہ ارض کے موسمیاتی بحران کو شدت دے رہا ہے۔
عالمی سطح پر خوراک کا ضیاع اور نقصان نہ صرف وسائل کا ضیاع ہے بلکہ یہ کرہ ارض کے موسمیاتی بحران کو بھی انتہائی خطرناک حد تک بڑھا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے اداروں اور فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) کی رپورٹس کے مطابق، بڑے پیمانے پر ضائع ہونے والا کھانا اور اس کا سڑنا ماحول میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ جب خوراک کو ضائع کیا جاتا ہے تو اس کی پیداوار میں استعمال ہونے والا پانی، توانائی اور محنت بھی رائیگاں جاتی ہے، جو بالآخر ماحولیاتی توازن کو بگاڑ دیتی ہے۔ جنگلات کی حفاظت اور زرعی غذایی نظام کو بہتر بنانے کے لیے اب یہ اشد ضرورت بن چکی ہے کہ خوراک کے اس ضیاع کو ہر ممکن طریقے سے روکا جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر فرد کو اپنی روزمرہ کی زندگی میں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ وہ اتنی ہی خوراک اپنی پلیٹ میں لے جتنا کہ وہ کھا سکتا ہے تاکہ بچ جانے والے کھانے کو کچرے میں پھینکنے سے گریز کیا جا سکے۔ عالمی سطح پر روایتی طریقوں کے ساتھ ساتھ جدید سائنسی علوم، جیسے کہ نیوکلیئر سائنس کا استعمال بھی خوراک کو زیادہ دیر تک تازہ رکھنے اور اس کے ضیاع کو کم کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے خوراک کو خراب ہونے سے بچایا جا سکتا ہے جس سے کروڑوں افراد کی غذایی ضروریات کو پورا کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ سپلائی چین کے نظام کو بہتر بنائیں تاکہ کھیتوں سے لے کر صارفین کی میز تک پہنچنے والے راستے میں خوراک ضائع نہ ہو۔ اگر عالمی برادری نے فوری طور پر اس سنگین مسئلے کی طرف توجہ نہ دی تو خوراک کا یہ ضیاع اربوں ڈالر کے مالی نقصان کے ساتھ ساتھ ہمارے ماحول کے لیے ایک ناسور بن جائے گا۔ لہذا، ذاتی سطح سے لے کر بین الاقوامی سطح تک ایک جامع حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ اس بحران پر قابو پایا جا سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک پائیدار دنیا چھوڑی جا سکے۔