LIVE
Loading Breaking News...

ہیری اور میگن کا بچوں کے اسکول کے باہر غیر ملکی فوٹوگرافرز کی موجودگی پر اظہارِ تشویش

News Image
برطانوی شہزادے ہیری اور ان کی اہلیہ میگن مارکل نے اپنے بچوں کے اسکول کے باہر نامعلوم افراد کی مشکوک سرگرمیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس واقعے کے بعد سسیکس جوڑے نے نجی زندگی میں اس غیر ذمہ دارانہ مداخلت کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
برطانوی شہزادے پرنس ہیری اور ان کی اہلیہ میگن مارکل نے اپنے بچوں کے اسکول کے قریب چند افراد کی مشکوک موجودگی پر شدید غصے اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب بچوں کے تعلیمی ادارے کے ارد گرد کچھ نامعلوم افراد کو دیکھا گیا، جن میں سے ایک کے بارے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ ایک بین الاقوامی پریس فوٹوگرافر ہے۔ اس صورتحال نے شاہی جوڑے کی سیکیورٹی اور پرائیویسی سے متعلق خدشات کو ایک بار پھر بڑھا دیا ہے۔ پرنس ہیری اور میگن مارکل کی طرف سے جاری کردہ بیانات میں اس اقدام کو نجی زندگی میں انتہائی 'غیر ذمہ دارانہ مداخلت' قرار دیا گیا ہے۔ جوڑے کا مؤقف ہے کہ ان کے بچوں آرچی اور لِلبیٹ کو اس قسم کی غیر ضروری توجہ اور میڈیا کی بے جا یلغار سے محفوظ رکھا جانا چاہیے۔ ایک ایسے وقت میں جب وہ کیلیفورنیا میں ایک پرسکون اور عام زندگی گزارنے کی کوشش کر رہے ہیں، اسکول جیسے حساس مقام پر اس طرح کی مداخلت قطعی طور پر ناقابل قبول ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد دونوں بچوں کی سیکیورٹی کے انتظامات کا از سر نو جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ پرنس ہیری ماضی میں بھی اپنی اہلیہ اور بچوں کی حفاظت کے حوالے سے انتہائی حساس رہے ہیں اور وہ میڈیا کی جانب سے حد سے تجاوز کرنے پر کئی بار قانونی چارہ جوئی بھی کر چکے ہیں۔ اس تازہ واقعے نے ایک بار پھر شاہی خاندان کے سابقہ جوڑے اور میڈیا کے درمیان کشیدہ تعلقات کو اجاگر کر دیا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد دنیا بھر میں موجود سسیکس جوڑے کے حامیوں اور میڈیا حلقوں میں بھی اس واقعے پر گرما گرم بحث شروع ہو گئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ عوامی شخصیات کے بچوں کی نجی زندگی کا احترام کیا جانا چاہیے اور اسکولوں جیسے مقامات کو تنازعات یا میڈیا کی دوڑ سے دور رکھنا چاہیے۔ برطانوی اور بین الاقوامی میڈیا پر اس خبر کو نمایاں طور پر کوریج دی جا رہی ہے جبکہ سسیکس جوڑے کی جانب سے سیکیورٹی کے سخت اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔