LIVE
Loading Breaking News...

گرین فیل ٹاور آتشزدگی کیس میں پولیس کی جانب سے 20 کمپنیوں اور 54 افراد کیخلاف قانونی چارہ جوئی کی سفارش

News Image
برطانوی پولیس نے سنہ 2017 میں پیش آنے والے گرین فیل ٹاور کے ہولناک آتشزدگی کے واقعے پر تحقیقات مکمل کرتے ہوئے 54 افراد اور 20 کمپنیوں کے خلاف باقاعدہ فردِ جرم عائد کرنے کی سفارش کی ہے۔ اس حادثے میں 72 افراد لقمہ اجل بنے تھے، جن کے لواحقین طویل عرصے سے انصاف کے منتظر ہیں۔
برطانوی پولیس نے سنہ 2017 میں لندن کے گرین فیل ٹاور میں پیش آنے والے تباہ کن آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقات کے بعد باضابطہ طور پر قانونی چارہ جوئی کا آغاز کر دیا ہے۔ پولیس حکام کی جانب سے دی گئی تفصیلات کے مطابق، اس ہولناک المیے کے سلسلے میں 54 افراد اور 20 کمپنیوں پر فردِ جرم عائد کرنے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ سانحے کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں لایا جا سکے۔ یاد رہے کہ اس الم ناک واقعے میں 72 معصوم افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے، جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور حفاظتی ضوابط پر سنگین سوالات اٹھائے گئے تھے۔ پولیس اور متعلقہ تفتیشی اداروں نے کئی سالوں تک اس حادثے کے ہر پہلو کا انتہائی باریک بینی سے جائزہ لیا۔ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ٹاور کی تعمیر اور تزئین و آرائش میں استعمال ہونے والا مواد حفاظتی معیار کے مطابق نہیں تھا، جس کی وجہ سے آگ انتہائی تیزی سے پوری عمارت میں پھیل گئی۔ اب پولیس کی جانب سے جن اداروں اور افراد کو نامزد کیا گیا ہے، ان پر لاپرواہی برتنے اور حفاظتی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ گرین فیل ٹاور کے متاثرین کے لواحقین اور بقا پانے والوں نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ تاخیر سے ملنے والا انصاف بھی ایک کڑا امتحان ہے۔ متاثرہ خاندانوں طویل عرصے سے انصاف کے حصول کے لیے تحریک چلا رکھی ہے اور وہ مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ غفلت کے مرتکب تمام افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں اس قانونی عمل کے نتیجے میں عدالتی کارروائی کا باقاعدہ آغاز ہوگا، جو برطانوی تاریخ کے بڑے مقدمات میں سے ایک ہوگا۔