World
نیوزی لینڈ میں وہیل کے حملے سے یاٹ تباہ، جوڑے کا بچ نکلنے پر اظہارِ تشکر
نیوزی لینڈ کے ساحل سے سینکڑوں میل دور ایک بڑی وہیل مچھلی کی ٹکر سے یاٹ تباہ ہونے کے بعد برطانوی جوڑے نے سنسنی خیز اور دل دہلا دینے والے واقعے کی تفصیلات بیان کیں۔ خوش قسمتی سے اس بحری حادثے میں دونوں کو بحفاظت بچا لیا گیا جس پر انہوں نے گہرے سکون اور اطمینان کا اظہار کیا۔
نیوزی لینڈ کے ساحل سے تقریباً 500 میل کے فاصلے پر ایک انتہائی خوفناک اور غیر معمولی سمندری حادثے میں، ایک بڑے سپرم وہیل نے برطانوی جوڑے جرمی اور جما کوپر کی یاٹ کو ٹکر مار کر شدید نقصان پہنچایا، جس کے نتیجے میں ان کی کشتی ڈوب گئی۔ اس دل دہلا دینے والے واقعے کے بعد دونوں میاں بیوی نے اپنی بقا اور محفوظ ریسکیو کی کہانی میڈیا سے شیئر کی ہے۔ متاثرہ جوڑے کی یاٹ کا نام 'تائی تام' تھا، جو کھلے سمندر میں سفر کر رہی تھی جب اچانک وہیل مچھلی سے اس کی زور دار ٹکر ہوئی۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ یاٹ کے ڈھانچے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا اور پانی تیزی سے کشتی کے اندر داخل ہونے لگا، جس سے صورتحال انتہائی خطرناک ہو گئی۔ حادثے کے وقت وہ ساحل سے سینکڑوں میل دور گہرے پانی میں موجود تھے جہاں مدد ملنے کے امکانات انتہائی کم ہوتے ہیں۔ تاہم، کڑے وقت میں جوڑے نے ہمت نہیں ہاری اور فوری طور پر ہنگامی امدادی سگنل جاری کیا۔ خوش قسمتی سے ان کا سگنل قریبی میری ٹائم حکام اور ریسکیو ٹیموں تک پہنچ گیا، جنہوں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ایک طویل اور مشکل آپریشن کے بعد دونوں کو بحفاظت اپنی تحویل میں لے لیا۔ اس بحری ریسکیو کے بعد جرمی اور جما کوپر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ لمحہ ان کی زندگی کا سب سے زیادہ خوفناک تھا، لیکن وہ خدا اور ریسکیو ٹیم کے شکر گزار ہیں کہ وہ اس جان لیوا حادثے میں معجزانہ طور پر بچ گئے۔ ماہرینِ سمندری حیات کا کہنا ہے کہ وہیل کا کشتیوں سے ٹکرانا ایک نایاب واقعہ ہے، لیکن کھلے سمندر میں اس طرح کے حادثات کے خطرات ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ اس واقعے کے بعد دنیا بھر میں سمندری سفر کرنے والوں کے لیے احتیاطی تدابیر اور ایمرجنسی سسٹمز کی اہمیت ایک بار پھر اجاگر ہو گئی ہے۔