LIVE
Loading Breaking News...

ہرارے میں شٹ ڈاؤن کے بعد سکیورٹی کے سخت انتظامات اور خاموشی

News Image
زمبابوے کے دارالحکومت ہرارے میں حکومتی پالیسیوں اور آئینی تبدیلیوں کے خلاف شٹ ڈاؤن کی کال کے بعد سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔ کاروباری حضرات نے احتیاط برتی اور شہر میں کشیدہ لیکن پرسکون صورتحال دیکھی گئی۔
زمبابوے کے دارالحکومت ہرارے میں شٹ ڈاؤن کی متوقع کال کے بعد اتوار کے روز زندگی معمول کے مطابق تو بحال نظر آئی تاہم شہر بھر میں ایک غیر معمولی خاموشی اور تناؤ محسوس کیا گیا۔ حکومت مخالف حلقوں اور شہریوں کی طرف سے آئینی تبدیلیوں کے خلاف دی جانے والی شٹ ڈاؤن کی کال کے بعد سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔ شہر کے اہم چوراہوں اور شاہراہوں پر سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے، جو آنے جانے والی گاڑیوں اور افراد کی کڑی نگرانی کر رہی ہے۔ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اس نقل و حرکت نے شہریوں اور کاروباری طبقے کو محتاط رہنے پر مجبور کر دیا ہے۔ دارالحکومت کے بیشتر تجارتی مراکز اور دکانیں جزوی طور پر کھلی رہیں یا پھر دکانداروں نے کسی بھی ہنگامہ آرائی کے خوف سے احتیاطاً اپنے کاروبار جلدی بند کرنے کو ترجیح دی۔ حالیہ کشیدگی کی بنیادی وجہ ملک میں متنازع آئینی تبدیلیاں ہیں جن پر حزب اختلاف اور سول سوسائٹی کی جانب سے سخت تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلیاں حکومتی اختیارات کو مزید مرتکز کرنے کا سبب بنیں گی، جبکہ حکارتیحرے کا موقف ہے کہ یہ ملکی مفاد اور استحکام کے لیے ناگزیر ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، عوامی سطح پر پائی جانے والی بے چینی اور حکومتی ردعمل کی وجہ سے آنے والے دنوں میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ سکتا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے شہریوں کو پرامن رہنے کی اپیل کی گئی ہے، لیکن ساتھ ہی خبردار کیا گیا ہے کہ امن و امان کی فضا خراب کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ہرارے کی موجودہ صورتحال اس بات کی غماز ہے کہ ملک میں سیاسی اور آئینی بحران کے حل کے لیے سنجیدہ گفت و شنید کی ضرورت ہے تاکہ عام شہریوں کا روزمرہ کا کاروبار متاثر نہ ہو۔