World
کارنیل یونیورسٹی میں مبینہ عصمت دری کی تحقیقات شروع
کارنیل یونیورسٹی میں دو سال قبل ایک طالبہ کو مبینہ طور پر نشہ آور چیز دے کر زیادتی کا نشانہ بنانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ یونیورسٹی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس واقعے کی سنگین نوعیت کے پیش نظر تحقیقات کر رہے ہیں۔
امریکہ کی معروف کارنیل یونیورسٹی میں پیش آنے والے ایک سنگین واقعے کی تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کر دیا گیا ہے، جہاں ایک خاتون نے دعویٰ کیا ہے کہ دو سال قبل یونیورسٹی کے ایک فریٹرنٹی ہاؤس میں اسے نشہ آور دوا دے کر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ انکشاف سامنے آنے کے بعد تعلیمی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور انتظامیہ پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ اس واقعے کی شفاف اور فوری تحقیقات کی جائیں تاکہ متاثرہ خاتون کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔
متاثرہ خاتون کی طرف سے دیے گئے بیان کے مطابق، یہ واقعہ دو سال پہلے پیش آیا تھا لیکن اس وقت خوف اور دیگر وجوہات کی بنا پر فوری طور پر کھل کر سامنے آنے میں مشکلات کا سامنا تھا۔ اب جب کہ اس معاملے کو باضابطہ طور پر حکام کے سامنے لایا گیا ہے، تو پولیس اور یونیورسٹی کی اندرونی کمیٹی نے اس کی تہہ تک پہنچنے کے لیے ثبوت اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں۔ اس بات کا جائزہ بھی لیا جا رہا ہے کہ آیا اس ہاؤس میں اس طرح کی مزید کوئی غیر قانونی سرگرمیاں تو ملوث نہیں تھیں۔
یونیورسٹی انتظامیہ نے اپنے ایک جاری کردہ بیان میں اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ طالب علموں کی حفاظت اور سلامتی ان کی اولین ترجیح ہے۔ انتظامیہ اس طرح کے معاملات میں کسی بھی قسم کی غفلت یا برداشت کے خلاف سخت پالیسی پر عمل پیرا ہے اور تحقیقاتی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کیا جا رہا ہے۔ جیسے ہی تحقیقات کے نئے مراحل طے ہوں گے، اس حوالے سے مزید تفصیلات عام کی جائیں گی۔
اس واقعے کے بعد طلبہ تنظیموں اور سماجی حلقوں کی جانب سے بھی شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جو کیمپس کے اندر طلبہ بالخصوص طالبات کی حفاظت کے لیے مزید سخت اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس حساس نوعیت کے مقدمے کے نتیجے میں امریکی یونیورسٹیوں میں طالب علموں کے رہائشی ہاؤسز کے ضابطہ کار اور سیکورٹی کے انتظامات پر ایک بار پھر بحث شروع ہو گئی ہے اور سب کی نظریں اس تحقیقات کے حتمی نتائج پر لگی ہوئی ہیں۔