World
خطرناک کلیڈنگ ہٹانے کے نئے قوانین پر رہائشیوں کے شدید تحفظات
برطانوی حکومت کی جانب سے عمارتوں کی بیرونی سطح پر لگی خطرناک کلیڈنگ کے خاتمے کے عمل کو تیز کرنے کے لیے نئے قوانین لائے جا رہے ہیں۔ تاہم، رہائشیوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ان ترامیم کے منفی اثرات پڑ سکتے ہیں اور خطرناک مواد عمارتوں پر جوں کا توں رہ سکتا ہے۔
برطانیہ میں رہائشیوں اور تعمیراتی ماہرین کی جانب سے حکومت کے ان نئے قوانین پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے جن کا مقصد عمارتوں سے خطرناک کلیڈنگ ہٹانے کے عمل کو تیز کرنا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ان اصلاحات سے اس پورے عمل میں تیزی آئے گی اور طویل عرصے سے جاری تاخیر کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔ تاہم، فلیٹس میں رہنے والے عام شہریوں اور سکیورٹی مہمات سے وابستہ افراد کا ماننا ہے کہ ان قوانین میں موجود مبہم شقوں اور نرمی کی وجہ سے خطرناک مواد مزید طویل عرصے تک بلند و بالا عمارات پر موجود رہ سکتا ہے، جو کہ انسانی جانوں کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
ماضی کے ناخ خوشگوار واقعات کے بعد، خاص طور پر گرین فیل ٹاور کے المیے کے بعد، یہ مطالبہ زور پکڑ گیا تھا کہ تمام غیر محفوظ عمارتوں کو فوری طور پر اس خطرناک مواد سے پاک کیا جائے۔ حکومتی سطح پر اس مسئلے کے حل کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں لیکن تاخیر کا شکار ہونے والے معاملات نے رہائشیوں کو مایوس کر دیا ہے۔ اب جب کہ حکومت نے عمل کو تیز تر بنانے کے لیے پالیسی میں تبدیلیاں کی ہیں، ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلیاں اصل مسائل کا احاطہ کرنے میں ناکام ثابت ہو سکتی ہیں اور اس سے بنیادی حفاظتی معیارات پر سمجھوتہ ہونے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب، ہاؤسنگ ڈپارٹمنٹ اور متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ وہ رہائشیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں اور ان تبدیلیوں کا مقصد صرف بیوروکریٹک رکاوٹوں کو کم کرنا ہے۔ حکام کے مطابق، نئے اصولوں کے تحت بلڈرز اور عمارتوں کے مالکان پر دباؤ ڈالا جائے گا کہ وہ جلد از جلد اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں تاکہ لوگوں کے جان و مال کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جا سکے۔ اس بحث کے دوران، فلیٹس کے رہائشی اس بات پر اڑے ہیں کہ حکومت کو ان کی آواز سننی چاہیے اور کلیڈنگ کے قوانین میں اس قسم کی کوئی بھی نرمی نہیں برتی جانی چاہیے جس سے شہریوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو۔