LIVE
Loading Breaking News...

بینک آف انگلینڈ کا مصنوعی ذہانت کی ریگولیشن پر موقف

News Image
بینک آف انگلینڈ کے گورنر اینڈریو بیلے کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے خطرات سے نمٹنے کے لیے سخت حفاظتی اقدامات اور جانچ پڑتال کی ضرورت ہے۔ تاہم، فوری طور پر اے آئی کی باقاعدہ ریگولیشن یا قانون سازی شروع کرنا مناسب اقدام نہیں ہوگا۔
بینک آف انگلینڈ کے گورنر اینڈریو بیلے نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے خطرات پر قابو پانے کے لیے سخت اور مؤثر جانچ پڑتال کا نظام ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل دور میں مالیاتی اور معاشی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے اے آئی کے استعمال میں احتیاط برتنی ہوگی تاکہ ممکنہ نقصانات سے بچا جا سکے۔ تاہم، اینڈریو بیلے کا یہ بھی ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت پر فوری طور پر روایتی اور سخت قانونی ضابطہ بندی یا ریگولیشن لاگو کرنا اس شعبے کے آغاز کے لیے شاید درست قدم نہ ہو۔ ان کے نزدیک ضرورت اس بات کی ہے کہ پہلے اس ٹیکنالوجی کے تلافی پذیر خطرات کو سمجھا جائے اور اس کی اندرونی صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے حفاظتی تدابیر اختیار کی جائیں۔ عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے تیز رفتار پھیلاؤ کے بعد دنیا بھر کے مالیاتی ادارے اور حکومتیں اس بات پر غور کر رہی ہیں کہ اس ٹیکنالوجی کو کس طرح ضابطے میں لایا جائے۔ بینک آف انگلینڈ کے سربراہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ماہرین اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ آیا سخت قوانین سے انوویشن متاثر ہوگی یا اس سے محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکتا ہے۔ آخر میں، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صنعتی اور معاشی حلقوں کو اے آئی کے استعمال میں شفافیت کو فروغ دینا چاہیے تاکہ اس کے مثبت اثرات سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے اور ممکنہ بحرانوں سے بروقت نمٹا جا سکے۔ بینک آف انگلینڈ آنے والے دنوں میں اس ٹیکنالوجی کے معیشت پر پڑنے والے اثرات کا مزید جائزہ لیتا رہے گا۔