LIVE
Loading Breaking News...

آر اے ایف فیئر فورڈ واقعہ: ایران کے ملوث ہونے کے شواہد

News Image
برطانوی سیاستدان برہم نے انکشاف کیا ہے کہ آر اے ایف فیئر فورڈ کے مقام پر پیش آنے والے حالیہ واقعے میں ایران کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کے مضبوط اشارے ملے ہیں۔ اس واقعے نے سیکورٹی کے حوالے سے نئے سوالات کو جنم دیا ہے جبکہ تفتیشی ادارے مزید تحقیقات کر رہے ہیں۔
برطانیہ کے اہم سیاسی حلقوں اور میڈیا رپورٹس کے مطابق، برہم نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ آر اے ایف فیئر فورڈ کے حساس ایئر بیس پر پیش آنے والے مشکوک واقعے کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہونے کے مضبوط اشارے یا شواہد پائے جاتے ہیں۔ دی گارڈین اور بی بی سی سمیت برطانوی ذرائع ابلاغ نے اس معاملے کو انتہائی اہمیت دی ہے کیونکہ یہ قومی سلامتی اور بین الاقوامی تعلقات سے براہ راست جڑا ہوا ایک سنگین معاملہ ہے۔ ابتدائی طور پر اس واقعے کے حوالے سے کافی ابہام پایا جاتا تھا کیونکہ پولیس نے جائے وقوعہ سے دھماکہ خیز مواد کے بجائے پیٹرول برآمد ہونے کی تصدیق کی تھی۔ اس پراسرار واقعے میں اس وقت ایک نیا موڑ آیا جب ایک مشتبہ شخص نے خود پولیس کو فون کر کے اس مبینہ بم سازش کو ناکام بنانے میں کردار ادا کیا، جیسا کہ دی ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں اجاگر کیا۔ تفتیشی افسران اس بات کی گہرائی سے جانچ پڑتال کر رہے ہیں کہ آیا اس سارے منصوبے کے پیچھے بیرونی عناصر بالخصوص ایرانی مداخلت کاروں کا کوئی ہاتھ تھا یا نہیں۔ اس پیش رفت نے برطانوی سیکورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور حساس تنصیبات کے گرد حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ حکام اس بات کا اعادہ کر رہے ہیں کہ قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے کسی بھی عنصر کو معاف نہیں کیا جائے گا اور اس واقعے کے تمام محرکات کو جلد بے نقاب کیا جائے گا۔ بین الاقوامی سطح پر بھی اس بیان کے بعد سفارتی حلقوں میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئی ہیں کیونکہ برطانیہ اور ایران کے درمیان پہلے سے ہی مختلف امور پر کشیدگی پائی جاتی ہے۔ حکومتی ترجمان اور سیکورٹی ماہرین اس معاملے پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ پولیس کی مکمل تحقیقات کے بعد اس واقعے کی تہہ تک پہنچا جائے گا اور تمام حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔ برہم کا یہ بیان اس پیچیدہ کیس میں ایک نیا سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے جو आने والے دنوں میں سفارتی اور سیاسی سطح پر مزید ہلچل کا باعث بنے گا۔