World
امریکی قیدی کرسٹا پائیک کی فائرنگ اسکواڈ سے سزائے موت کی درخواست
امریکی ریاست ٹینیسی میں دو صدیوں بعد کسی خاتون کو سزائے موت دیے جانے کا معاملہ قانونی پیچیدگیوں کا شکار ہوگیا ہے۔ سزائے موت کی قیدی کرسٹا پائیک نے مہلک انجیکشن کے بجائے فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزا پر عمل درآمد کرنے کی عدالت سے استدعا کی ہے۔
امریکی ریاست ٹینیسی میں سزائے موت کی قیدی کرسٹا پائیک کا معاملہ ایک بار پھر عالمی میڈیا کی سرخیوں میں آ گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ٹینیسی میں گزشتہ دو سو سالوں کے دوران کسی خاتون کو پہلی بار سزائے موت دیے جانے کا منصوبہ تھا، تاہم وفاقی اپیل عدالت کی مداخلت کے بعد اس پر عارضی طور پر روک لگا دی گئی ہے۔ اس دوران قیدی کرسٹا پائیک کے وکلاء نے عدالت میں ایک نئی قانونی جنگ کا آغاز کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کی مؤکل کو روایتی مہلک انجیکشن کے ذریعے موت کے گھاٹ اتارنے کے بجائے فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزا دی جائے۔ اس عدالتی موڑ نے امریکی نظامِ انصاف اور سزائے موت کے طریقوں پر ایک بار پھر نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ دوسری جانب مقتولہ کولین سلیمیر کی والدہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انصاف کی طویل جنگ اور اپنی بیٹی کی یادوں کو تازہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے شاید انہیں بالآخر وہ سکون اور انصاف مل سکے جس کا وہ برسوں سے انتظار کر رہی تھیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق ٹینیسی کی عدالتوں میں یہ مقدمہ اس وقت انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں انسانی حقوق، سزائے موت کے طریقہ کار اور متاثرہ خاندان کے حقوق پر سنجیدہ مباحثے جاری ہیں۔ آنے والے دنوں میں عدالت کی جانب سے فائرنگ اسکواڈ کی درخواست پر کیا جانے والا فیصلہ امریکی تاریخ میں ایک اہم نظیر قائم کر سکتا ہے۔