LIVE
Loading Breaking News...

ایف بی آر کی جانب سے غیر منسلک کاروباری اداروں کو سیل کرنے کا طریقہ کار واضح

News Image
فیڈرل بورڈ آف ریوینیو نے الیکٹرانک مانیٹرنگ سسٹم سے منسلک نہ ہونے والے کاروباری اداروں کے خلاف کارروائی کا نیا لائحہ عمل واضح کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ٹیکس چوری کی روک تھام اور دستاویزی معیشت کو فروغ دینا ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) نے ان تمام کاروباری اداروں کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کر دیا ہے جو الیکٹرانک مانیٹرنگ سسٹم کے ساتھ خود کو منسلک کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق ایف بی آر نے ایسے اداروں کے خلاف سیلنگ کے طریقہ کار کو واضح کر دیا ہے تاکہ ٹیکس نیٹ کو مزید وسعت دی جا سکے اور ملکی معیشت میں شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس ضمن میں محکمہ جاتی ہدایات جاری کی گئی ہیں جن کے تحت تمام متعلقہ کاروباری اکائیوں کو فوری طور پر اپنے نظام کو اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس نئے اقدام کے تحت ایف بی آر نے ان تمام تجارتی مراکز اور کاروباروں کے خلاف بھی کارروائی شروع کردی ہے جنہوں نے مقررہ وقت کے باوجود اپنے سیلز ٹیکس کی رجسٹریشن کو ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم کے ساتھ مربوط نہیں کیا۔ انضمام میں ناکامی کی صورت میں ایف بی آر کی جانب سے نہ صرف سیلز ٹیکس رجسٹریشن معطل کی جا رہی ہے بلکہ قانون کے مطابق ان کے احاطے کو سیل کرنے کے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ قدم ٹیکس چوری کے سدباب کے لیے انتہائی ضروری ہے تاکہ ٹیکس نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے۔ کاروباری برادری کو اس صورتحال میں سخت چیلنجز کا سامنا ہے تاہم ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ ڈیجیٹائزیشن کے عمل میں کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ ماہرین معاشیات کا ماننا ہے کہ الیکٹرانک مانیٹرنگ سسٹم کے نفاذ سے ملکی محصول میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا اور کاروبار میں شفافیت آئے گی۔ ایف بی آر کے متعلقہ دفاتر کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس عمل کی سخت نگرانی کریں اور قانون شکنی کرنے والوں کے خلاف فوری قانونی کارروائی عمل میں لائیں۔