LIVE
Loading Breaking News...

ملاکنڈ ڈویژن ٹیکس فری حیثیت، تاجروں کی ہڑتال اور مطالبات

News Image
ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف تاجروں اور ٹرانسپورٹرز نے مکمل ہڑتال کی اور حکومت سے پرانی حیثیت بحال رکھنے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ خطے کے عوام پہلے ہی مختلف مشکلات کا شکار ہیں اور مزید ٹیکس بوجھ برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
ملاکنڈ ڈویژن میں حکومت کی جانب سے نئے ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف تاجر برادری اور ٹرانسپورٹرز نے شدید احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی ہے۔ اس احتجاج کی کال کے بعد ڈویژن کے مختلف اضلاع میں کاروباری مراکز، مارکیٹس اور دکانیں مکمل طور پر بند رہیں جبکہ سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ کی نقل و حرکت بھی نہایت محدود نظر آئی۔ تاجر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن کو ماضی میں جو خصوصی ٹیکس چھوٹ حاصل تھی، اسے ختم کرنے کے فیصلے سے خطے کے عوام اور کاروباری طبقے پر معاشی بوجھ میں بے پناہ اضافہ ہو جائے گا۔ مظاہرین نے اس موقع پر مختلف مقامات پر احتجاجی ریلیاں نکالیں اور دھرنے دیئے جن میں حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقامی تاجر رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ملاکنڈ ڈویژن طویل عرصے تک دہشت گردی، بدامنی اور قدرتی آفات سے بری طرح متاثر رہا ہے اور یہاں کا بنیادی ڈھانچہ اور معیشت پہلے ہی تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔ ایسے نازک حالات میں یہاں کے عوام پر نئے ٹیکس عائد کرنا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے اور حکومت کو اپنے اس فیصلے پر فوری نظرثانی کرنی چاہیے۔ ٹرانسپورٹرز یونین نے بھی اس ہڑتال کی بھرپور حمایت کی اور کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ ملاکنڈ ڈویژن میں جبری ٹیکسوں کی وصولی سے مسافروں اور ٹرانسپورٹرز دونوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ اگر حکومت نے ٹیکسوں کا نفاذ فوری طور پر واپس نہ لیا تو احتجاج کے دائرہ کار کو مزید وسیع کیا جائے گا اور صوبائی دارالحکومت سمیت اہم شاہراہوں کو بھی بند کر دیا جائے گا۔ دوسری جانب، عوامی حلقوں اور سول سوسائٹی نے بھی تاجروں کے اس مؤقف کی تائید کی ہے کہ ملاکنڈ کو ماضی کی طرح خصوصی مراعات اور استثنیٰ دیا جانا چاہیے تاکہ یہاں کے غریب عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔ سیاسی رہنماؤں نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر گرینڈ جرگہ یا تاجر نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کرے تاکہ اس معاشی بحران کا کوئی پرامن اور منصفانہ حل نکالا جا سکے اور خطے میں امن و امان کی صورتحال برقرار رہے۔