LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان کا سعودی عرب کے دفاع کا اعلان، حوثی حملوں پر سخت مؤقف

News Image
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے ایران کے حمایت یافتہ حوثی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ اسلام آباد نے اعلان کیا ہے کہ وہ مملکت کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
اسلام آباد: پاکستان نے خلیجی خطے کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال اور سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کے تناظر میں ایک بار پھر دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مملکتِ سعودی عرب کے دفاع کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہے۔ پاکستانی اعلیٰ عسکری اور سیاسی قیادت کا ماننا ہے کہ حرمین شریفین کا دفاع ہر مسلمان کے لیے باعثِ فخر اور ایمان کا حصہ ہے، اور اس حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ ایرانی حمایت یافتہ حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنانے کے حالیہ واقعات کے بعد بین الاقوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، اور ایسے میں پاکستان کا یہ بیان خطے میں سکیورٹی توازن کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کی تاریخ بہت پرانی ہے اور پاکستانی فوج کے تجربہ کار دستے اور عیسائی ماہرین ماضی میں بھی برادر اسلامی ملک کی تربیت اور سکیورٹی کے امور میں تعاون کرتے رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی حکام کے درمیان ہونے والے اعلیٰ سطحی رابطوں میں بھی اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ ریاض کی سلامتی کے خلاف اٹھنے والے ہر خطرے کا مشترکہ طور پر مقابلہ کیا جائے گا۔ پاکستانی وزیراعظم نے اقوام متحدہ یا دیگر عالمی فورمز پر بھی اس بات واضح کر دی ہے کہ کوئی بھی مسلمان حرمین شریفین یا سعودی عرب کی سلامتی پر آنچ آنے کا سوچ بھی نہیں سکتا، اور پاکستان اس معاملے پر ہمیشہ پیش پیش رہے گا۔ ماہرینِ امورِ بین الاقوامی کا کہنا ہے کہ خلیجی خطے بالخصوص سعودی عرب کی سلامتی پورے عالمِ اسلام کے لیے انتہائی حساس معاملہ ہے۔ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے تجارتی تنصیبات اور اہم مقامات پر میزائل اور ڈرون حملے خطے کے امن کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کا یہ واضح اعلان کہ وہ سعودی عرب کے دفاع کے لیے 'کسی بھی ذریعے' سے مدد کرے گا، ایک مضبوط سیاسی اور عسکری پیغام ہے۔ اس عزم سے نہ صرف دونوں برادر ملکوں کے دیرینہ تعلقات کو مزید تقویت ملے گی بلکہ خطے میں جارحانہ عزائم رکھنے والے عناصر کو بھی واضح پیغام جائے گا کہ اسلامی دنیا کے اہم ممالک اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر متحد اور تیار ہیں۔