LIVE
Loading Breaking News...

وزیراعظم کا دورہ لندن: برطانوی مالیاتی شخصیات سے ملاقات اور اسٹاک ایکسچینج کا افتتاح

News Image
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے لندن میں عالمی مالیاتی اداروں کے سینیئر رہنماؤں سے ملاقات کی اور انہیں پاکستان کے شعبۂ فنانس میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ اس موقع پر وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ گہرے ساختیاتی اصلاحات کی بدولت ملک کی معیشت درست سمت میں گامزن ہو چکی ہے۔
لندن: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے دورۂ برطانیہ کے دوران بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور برطانوی فنانس کے اہم ترین رہنماؤں سے تفصیلی ملاقاتیں کی ہیں۔ ان ملاقاتوں کا بنیادی مقصد پاکستان کے معاشی استحکام کو اجاگر کرنا اور عالمی سرمایہ کاروں کو ملک میں نئے کاروباری مواقع فراہم کرنا تھا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے برطانوی سرمایہ کاروں کو پاکستان کی ترقیاتی اور مالیاتی مارکیٹ میں اپنے قدم جمانے اور خدمات کو وسعت دینے کی پرزور دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ملکی معیشت کی بحالی کے لیے انتہائی سخت لیکن ناگزیر اصلاحات نافذ کی ہیں جن کے مثبت نتائج اب سامنے آ رہے ہیں۔ ملاقاتوں کے دوران وزیراعظم نے سیٹی گروپ (Citi Group) سمیت مختلف عالمی مالیاتی فرموں کے اعلیٰ عہدیداروں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں اصلاحاتی ایجنڈے پر مکمل سنجیدگی کے ساتھ عمل درآمد جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گہرے اور بنیادی ساختیاتی اصلاحاتی اقدامات کی بدولت پاکستان کی معیشت بحالی کی پٹری پر واپس آ چکی ہے، جس سے ملک میں کاروبار کرنے کے ماحول میں نمایاں بہتری پیدا ہوئی ہے۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ حکومتی پالیسیوں کا مقصد سرمایہ کار دوست ماحول کی فراہمی ہے تاکہ غیر ملکی ادارے بلا جھجھک پاکستان کے ابھرتے ہوئے شعبوں میں سرمایہ کاری کر سکیں۔ برطانوی مالیاتی اداروں کے سربراہان اور سرمایہ کاروں نے پاکستان میں معاشی بحالی کے عمل اور حکومتی اقدامات کو سراہا۔ انہوں نے پاکستان کے مالیاتی اور بینکنگ سیکٹر میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ مستقبل میں پاکستان کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دیں گے۔ اس دورے کے دوران وزیراعظم نے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر پاکستان کی اقتصادی پالیسیوں کو موثر انداز میں پیش کیا، جس سے عالمی برادری میں ملکی معیشت کے حوالے سے اعتماد کی فضا مزید مستحکم ہوئی ہے۔ ماہرینِ معاشیات کے مطابق وزیراعظم کے ان دوروں اور اہم ملاقاتوں سے آنے والے دنوں میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) میں اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔