Pakistan
صدر کی منظوری میں تاخیر سے عدلیہ کے امور متاثر، ججوں کی مدت ختم
صدر مملکت کی جانب سے عدلیہ میں ججوں کی تقرری اور توسیع کی سمریوں پر دستخط میں تاخیر کے باعث سندھ ہائیکورٹ کے ایک ایڈیشنل جج کی مدت ملازمت ختم ہو گئی ہے۔ اس صورتحال سے پشاور ہائیکورٹ کے چار ججوں سمیت دیگر عدالتوں میں بھی ججوں کی تعیناتی کے امور غیر یقینی کا شکار ہو گئے ہیں۔
اسلام آباد: صدر مملکت کی جانب سے عدلیہ میں ججوں کی تقرری اور توسیع کی سمریوں پر بروقت منظوری نہ ملنے کے باعث اعلیٰ عدلیہ کے امور شدید متاثر ہونے لگے ہیں۔ اس تاخیر کے نتیجے میں سندھ ہائیکورٹ کے ایک ایڈیشنل جج کی مدت ملازمت ختم ہو چکی ہے جبکہ پشاور ہائیکورٹ کے چار ایڈیشنل جج صاحبان بھی آنے والے دنوں میں اسی قسم کی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں، حالانکہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (جے سی پی) پہلے ہی ان کی خدمات جاری رکھنے کی سفارش کر چکا ہے۔ سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس خالد حسین شاہانی کی مدت ملازمت ختم ہونے کے باوجود ہائیکورٹ نے بینچز کے نئے روسٹر میں ان کا نام شامل رکھا ہے تاکہ نوٹیفکیشن جاری ہونے پر کام جاری رکھا جا سکے، تاہم ایوانِ صدر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ باضابطہ منظوری کے بغیر کوئی جج عہدے پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ دوسری جانب پشاور ہائیکورٹ میں بھی یہی غیر یقینی صورتحال منڈلا رہی ہے جہاں چار جج صاحبان جسٹس فرح جمشید، جسٹس انعام اللہ خان، جسٹس ثابت اللہ خان اور جسٹس اورنگزیب کی مدت ملازمت مکمل ہونے کو ہے۔ جوڈیشل کمیشن نے ان ججوں کی مدت میں توسیع کی سفارش کر رکھی ہے لیکن سمری تاحال منظوری کی منتظر ہے۔ قانونی حلقوں اور بار ایسوسی ایشنز نے اس تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین پیر مسعود چشتی کا کہنا ہے کہ نوٹیفکیشن جاری نہ ہونے کی صورت میں جج اپنی مدت ختم ہونے کے بعد عدلیہ کے فرائض انجام نہیں دے سکتے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ہارون رشید نے بھی اس بات پر تنقید کی ہے کہ صدر آئینی عمل کے تحت کی جانے والی سفارشات کو طویل عرصے تک روکے نہیں رکھ سکتے۔ اس صورتحال سے نہ صرف متعلقہ عدالتوں میں بلکہ پورے ملک کے قانونی حلقوں میں بے چینی پائی جا رہی ہے اور حکومت اس تاخیر سے نبردآما ہونے کے لیے آئینی آپشنز پر غور کر رہی ہے۔