LIVE
Loading Breaking News...

پیٹرن والی پلیٹ جو سرفیس وائبریشن سے اشیاء کو حرکت دیتی ہے

News Image
سائنسدانوں نے ایک ایسی جدید پیٹرن والی پلیٹ تیار کی ہے جو سطح کے ارتعاش یعنی وائبریشنز کو بروئے کار لاتے ہوئے اشیاء کو حرکت دینے اور گھمانے کا کام کرتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے بغیر کسی پیچیدہ الیکٹرانک نظام کے اشیاء کی نقل و حرکت ممکن ہو گئی ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک انتہائی دلچسپ اور انوکھی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں محققین نے ایک ایسی پیٹرن والی پلیٹ متعارف کروائی ہے جو روایتی اور پیچیدہ الیکٹرانک آلات کی مدد کے بغیر اشیاء کو حرکت دینے اور گھمانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ نئی تحقیق سائنسی جریدوں میں بھی خاصی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے اور ماہرین اسے میکانیکی اور فزیکل انجینئرنگ کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل قرار دے رہے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کا بنیادی اصول سطح کی لہروں اور ارتعاش یعنی سرفیس وائبریشنز پر منحصر ہے جو کسی بھی چیز کو مخصوص سمت میں دھکیلنے یا گھمانے کا کام کرتی ہے۔ روایتی طور پر کسی بھی چیز کی خودکار نقل و حرکت یا سمت بدلنے کے لیے موٹرز، وائرز، اور پیچیدہ مائیکرو چپس پر مشتمل الیکٹرانک سسٹمز کی ضرورت پڑتی ہے۔ تاہم اس نئی ایجاد نے اس روایتی طریقہ کار کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ اس خصوصی پلیٹ کی سطح پر ایک خاص پیٹرن بنایا گیا ہے جب اس پر ارتعاش پیدا کیا جاتا ہے تو وہ لہریں اس پیٹرن کے مطابق سفر کرتی ہیں۔ پلیٹ پر رکھی ہوئی مختلف اشیاء ان نادیدہ لہروں اور ارتعاش کے اثر سے خود بخود تیرنے یا پھسلنے لگتی ہیں اور انہیں بغیر کسی بیرونی ہاتھ یا مشین کے مطلوبہ سمت میں گھمایا بھی جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کے مستقبل میں بے شمار عملی اور صنعتی فوائد ہو سکتے ہیں۔ مینوفیکچرنگ اور اسمبلی لائنز میں چھوٹے اور نازک پرزہ جات کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے لیے یہ پلیٹ انتہائی مفید ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ اس میں حصوں کے ٹوٹنے یا خراب ہونے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ طبی آلات اور مائیکرو فلوئیڈکس کے شعبے میں بھی اس ٹیکنالوجی سے نمایاں مدد ملنے کی توقع ہے۔ ٹیک ایکسپلور کی اس رپورٹ کے بعد دنیا بھر کے انجینئرز اس ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنانے پر غور کر رہے ہیں تاکہ اسے روزمرہ کی صنعتی ضرورتوں کے مطابق ڈھالا جا سکے۔ اگرچہ یہ ٹیکنالوجی تاحال اپنی ابتدائی مراحل میں ہے لیکن اس کے جو نتائج سامنے آئے ہیں وہ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ مستقبل میں میکانیکی سسٹمز کو مزید سادہ اور موثر بنایا جا سکتا ہے۔