Entertainment
کرسی ایمفلیٹ کے گمشدہ گانے ٹم فن کے گیرج سے دریافت
آسٹریلوی راک بینڈ ڈیونلز کی مرحومہ گلوکارہ کرسی ایمفلیٹ کے طویل عرصے سے گمشدہ گانے موسیقار ٹم فن کے گیرج سے مل گئے ہیں۔ اس دریافت سے دونوں فنکاروں کے درمیان پرانی موسیقی کی یادیں تازہ ہو گئی ہیں اور شائقین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
آسٹریلوی موسیقی کی دنیا کے لیے ایک حیرت انگیز اور تاریخی انکشاف سامنے آیا ہے جہاں مشہور زمانہ راک بینڈ ڈیونلز کی مرحومہ اور ہر دلعزیز فرنٹ وومن کرسی ایمفلیٹ (Chrissy Amphlett) کے طویل عرصے سے گمشدہ گانے موسیقار ٹم فن (Tim Finn) کے گیرج سے برآمد ہوئے ہیں۔ یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کرسی ایمفلیٹ کی فنی خدمات اور ان کی نجی و فنی زندگی کو ایک بار پھر دستاویزی پروگراموں اور خبروں میں یاد کیا جا رہا ہے۔ ٹم فن نے اپنے ایک بیان میں اس باہمی اشتراک کو یاد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دونوں ماضی میں کچھ انتہائی خاص تخلیق کرنے کے لیے پرعزم تھے اور ان کا یہ پروجیکٹ اب ایک انمول ورثے کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ موسیقی سے محبت کرنے والے حلقے اس دریافت کو کسی معجزے سے کم قرار نہیں دے رہے کیونکہ 'آئی ٹچ مائ سیلف' جیسے لازوال گانے کی گلوکارہ کی اچانک موت کے بعد مداحوں کو ان کی مزید آواز سننے کی کوئی امید نہیں رہی تھی۔ ان گانوں کے منظر عام پر آنے سے نہ صرف دونوں فنکاروں کی فنی صلاحیتوں کا ایک نیا باب کھلا ہے بلکہ شائقین کو بھی اپنی پسندیدہ گلوکارہ کی یاد تازہ کرنے کا موقع مل گیا ہے۔ ماہرین موسیقی کا کہنا ہے کہ ان گانوں کی دریافت آسٹریلوی راک اور پاپ میوزک کی تاریخ میں ایک سنگ میل ثابت ہوگی۔ موسیقار ٹم فن نے انکشاف کیا ہے کہ یہ گانے برسوں سے ان کے گیرج میں محفوظ ایک پرانے باکس میں پڑے تھے اور صفائی کے دوران جب وہ سامان دیکھ رہے تھے تو انہیں یہ قیمتی اور نایاب ریکارڈنگز ملیں۔ اس دریافت کے بعد سے دنیا بھر میں موجود کرسی ایمفلیٹ کے مداحوں کی طرف سے خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے اور یہ امید کی جا رہی ہے کہ ان گانوں کو جلد ہی باقاعدہ طور پر ریلیز کیا جائے گا تاکہ نئی نسل بھی اس لیجنڈری فنکارہ کی جادوئی آواز سے مستفید ہو سکے۔