World
برطانوی جامعات اور چین کا ریسرچ اشتراک، ایم آئی فائیو کی وارننگ
برطانوی انٹیلی جنس ایجنسی ایم آئی فائیو نے جامعات کو خبردار کیا ہے کہ وہ چین کے ساتھ تحقیقی اشتراک فوری طور پر ختم کریں۔ برطانوی تحقیقاتی اداروں کے مطابق یہ تحقیقات براہ راست بیجنگ کی وزارتِ سلامتی کو منتقل کی جارہی ہیں۔
برطانیہ کی داخلی انٹیلی جنس ایجنسی ایم آئی فائیو (MI5) نے ملک بھر کی جامعات اور تحقیقی اداروں کو ایک انتہائی اہم اور سنجیدہ وارننگ جاری کی ہے۔ اس وارننگ میں کہا گیا ہے کہ برطانوی جامعات میں ہونے والی حساس نوعیت کی سائنسی اور تکنیکی ریسرچ کو مبینہ طور پر چین کے سرکاری اداروں کے ذریعے بیجنگ کی وزارتِ سلامتی (MSS) تک پہنچایا جا رہا ہے، جو کہ برطانیہ کی قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ بنتا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، برطانوی تعلیمی اداروں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ فوری طور پر 'چائنا جنرل ٹیکنالوجی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ' اور اس سے منسلک دیگر چینی اداروں کے ساتھ تمام تر اشتراکی معاہدے اور روابط منقطع کر دیں۔ ان اداروں پر شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ تعلیمی تعاون کی آڑ میں ایسی حساس معلومات حاصل کر رہے ہیں جنہیں فوجی یا انٹیلی جنس مقاصد کے لیے استعمال کیا جا सकता ہے۔
برطانوی حکومت اور سیکورٹی حکام طویل عرصے سے اس بات پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ بیرونی طاقتیں تعلیمی اداروں کی کھلے پن کی پالیسی کا ناجائز فائدہ اٹھاتی ہیں۔ یونیورسٹیوں میں غیر ملکی طلباء اور فنڈنگ کے ذریعے حساس ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنا اب ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے، جس پر اب مغربی ممالک نے سخت اقداماتن اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وارننگ کے بعد برطانوی جامعات کو اپنی فنڈنگ کے ذرائع اور شراکت داروں کا از سر نو جائزہ لینا ہوگا۔ تعلیمی آزادی اور قومی سلامتی کے درمیان توازن قائم کرنا حکومت اور جامعات دونوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے، اور آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید سخت پالیسیاں متوقع ہیں۔