LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ: کرسٹا پائیک کی سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا گیا

News Image
امریکہ میں سنہ 1996 کے قتل کے ایک مقدمے میں مجرم قرار دی جانے والی کرسٹا پائیک کی سزائے موت پر عمل درآمد آخری لمحے میں روک دیا گیا ہے۔ حکام کی جانب سے اس التواء کی وجوہات اور آئندہ کے لائحہ عمل کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکہ سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق قاتل خاتون کرسٹا پائیک کی سزائے موت پر عمل درآمد کو عین اس وقت روک دیا گیا جب اسے تختہ دار پر لائے جانے کی تیاریاں مکمل کی جا رہی تھیں۔ اس ڈرامائی پیش رفت نے قانونی حلقوں اور عوامی سطح پر ایک بار پھر موت کی سزا کے حوالے سے جاری بحث کو گرما دیا ہے۔ کرسٹا پائیک کو سنہ 1996 میں کولی سلیمر نامی لڑکی کے بہیمانہ قتل کے الزام میں مجرم قرار دیا گیا تھا اور عدالت نے اسے سزائے موت سنائی تھی۔ اس مقدمے نے اپنے وقت میں شدید عوامی ردعمل حاصل کیا تھا کیونکہ یہ چند ایسے نادر مقدمات میں سے ایک تھا جہاں کسی خاتون کو امریکہ میں سزائے موت سنائی گئی۔ طویل قانونی جنگ، اپیلوں اور نظرثانی کی درخواستوں کے بعد کیس کے تمام مراحل طے پا چکے تھے اور سزا پر عمل درآمد کا وقت مقرر کیا گیا تھا۔ تاہم آخری لمحات میں سامنے آنے والے قانونی پہلوؤں یا عدالتی حکم کی روشنی میں حکام کو اس پر عمل درآمد روکنا پڑا۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے پیچیدہ مقدمات میں وکلاء کی جانب سے آخری وقت میں بھی مختلف فورمز پر رجوع کیا جاتا ہے تاکہ پھانسی کے فیصلے کو روکا جا سکے یا اس میں نظرثانی کی جائے۔ فی الحال یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ اس کیس کی اگلی سماعت کب ہو گی یا اس فیصلے کے بعد قانون کا اگلا رخ کیا ہوگا۔ متاثرہ فریق اور مجرم کے وکلاء دونوں ہی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ ریاستی حکام کی جانب سے اس معاملے پر مزید تفصیلی بیان سامنے آنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔