World
گھریلو تشدد: قیدیوں کی قبل از وقت رہائی پر متاثرہ خواتین کا احتجاج
برطانیہ میں گھریلو تشدد کی شکار خواتین نے حکومت کی جانب سے قیدیوں کی قبل از وقت رہائی کی اسکیم پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ ظالم اور جابر سابقہ شریک حیات کی قبل از وقت جیل سے رہائی سے ان کی جانوں کو شدید خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔
برطانیہ میں گھریلو تشدد اور زیادتی کا شکار ہونے والی خواتین نے حکومت کی جانب سے شروع کی جانے والی قیدیوں کی قبل از وقت رہائی کی اسکیم پر گہرے تحفظات اور شدید خوف کا اظہار کیا ہے۔ متاثرہ خواتین کا ماننا ہے کہ اس حکومتی اقدام کی وجہ سے ان کے مجرم اور ظالم سابقہ شریک حیات وقت سے پہلے جیلوں سے باہر آ جائیں گے، جس سے ان کی زندگیاں ایک بار پھر خطرے میں پڑ جائیں گی۔ برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویوز میں ان خواتین نے کھل کر اپنے خدشات کا اظہار کیا اور نظامِ انصاف پر عدم اعتماد کا مظاہرہ کیا۔
حکومت کی جانب سے جیلوں میں جگہ کی کمی اور دیگر انتظامی مسائل کے پیش نظر قیدیوں کی سزاؤں میں نرمی کرتے ہوئے انہیں مقررہ مدت سے پہلے رہا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاہم، اس اسکیم کے دائرہ کار میں ایسے مجرم بھی آ سکتے ہیں جنہیں گھریلو تشدد، ہراساں کرنے اور خواتین پر جسمانی و ذہنی تشدد کے جرم میں سزائیں سنائی گئی تھیں۔ متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ جب ایسے خطرناک مجرم قبل از وقت معاشرے میں واپس آئیں گے تو وہ اپنے انتقامی عزائم کی تکمیل کے لیے ان تک دوبارہ پہنچ سکتے ہیں۔
متاثرہ خواتین کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے انتہائی مشکل حالات اور طویل قانونی جنگ کے بعد اپنے مجرموں کو سلاخوں کے پیچھے پہنچایا تھا تاکہ وہ کچھ عرصہ پرسکون اور خوف سے آزاد زندگی گزار سکیں۔ لیکن اب اس نئی پالیسی کی وجہ سے ان کا وہ سکون خاک میں ملتا دکھائی دے رہا ہے۔ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے فلاحی اداروں نے بھی حکومت پر زور دیا ہے کہ گھریلو تشدد اور سنگین جرائم میں ملوث افراد کو اس قبل از وقت رہائی کی اسکیم سے فوری طور پر مستثنیٰ قرار دیا جائے۔
برطانوی حکومت اور وزارتِ داخلہ کو اس معاملے پر شدید عوامی دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور متاثرہ خواتین مطالبہ کر رہی ہیں کہ گھریلو زیادتی کے متاثرین کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر اضافی اقدامات کیے جائیں۔ خواتین کا یہ بھی کہنا ہے کہ مجرموں کی رہائی سے پہلے انہیں اور پولیس حکام کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا جانا چاہیے تاکہ وہ بروقت اپنی حفاظت کے لیے مناسب حفاظتی انتظامات کر سکیں اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچ سکیں۔