World
امریکہ کے پاس اسرائیل کا دفاع کرنے کے لیے افواج اور میزائل کم پڑ گئے
امریکہ کے ایک سینیئر فوجی کمانڈر نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی میزائل حملوں کے خلاف اسرائیل کا دفاع کرنے اور مشرق وسطیٰ میں اپنے مفادات کی حفاظت کے لیے امریکی بحریہ کے پاس وسائل ناکافی ہو سکتے ہیں۔ پینٹاگون کو یہ مشکل انتخاب درپیش ہو سکتا ہے کہ وہ امریکی مفادات کو ترجیح دے یا اسرائیل کے میزائل دفاعی آپریشنز کو جاری رکھے۔
امریکہ کے ایک اعلیٰ ترین فوجی کمانڈر کی جانب سے جاری کی جانے والی ایک انتباہی رپورٹ نے واشنگٹن کے دفاعی حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ کے پاس اب شاید اتنی بحری افواج اور دفاعی وسائل باقی نہیں رہے کہ وہ بیک وقت ایران کے میزائل حملوں کے خلاف اسرائیل کا بھرپور دفاع کر سکے اور دنیا بھر میں اپنے مفادات کا تحفظ بھی جاری رکھ سکیں۔ یوروپی کمانڈ کے سربراہ جنرل الیکسس گرنکیوچ نے پینٹاگون کے حکام کو نجی طور پر آگاہ کیا ہے کہ جاری تنازع کے دوران امریکی بحری اثاثے شدید دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ اور دیگر بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق، امریکی بحریہ کے تباہ کن جہاز جو ایجس کمبیٹ سسٹم سے لیس ہیں، اسرائیل کے میزائل دفاع کا ایک مرکزی حصہ بن چکے ہیں۔ یہ بحری جہاز آنے والے بیلسٹک میزائلوں کا سراغ لگاتے ہیں اور ایس ایم تھری اور ایس ایم سکس جیسے جدید انٹرسیپٹرز لانچ کرتے ہیں۔ تاہم، یہ جہاز بحرالکاہل میں چین کا مقابلہ کرنے، یورپ میں نیٹو اتحادیوں کو تقویت دینے اور مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں کی حفاظت کے لیے بھی اتنے ہی اہم ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے دفاع کے لیے بھیجا جانے والا ہر جہاز کسی اور اہم محاذ پر بحران کے وقت دستیاب نہیں ہوگا۔
اس صورتحال کا ایک اور اہم پہلو جدید میزائلوں اور دفاعی سازوسامان کے ذخائر میں کمی ہے۔ پینٹاگون کے جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ نے ایرانی تنازع کے دوران اپنے تھاد انٹرسیپٹرز کا تقریباً نصف حصہ یعنی دو سو سے زائد میزائل استعمال کر لیے ہیں۔ اس کے علاوہ بحری جہازوں سے بھی ایک سو سے زائد میزائل داغے گئے ہیں۔ سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے تجزیے کے مطابق، امریکی فوج نے اپنی پریزیسن اسٹرائیک میزائلوں کا تقریباً 45 فیصد، پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کا نصف اور ٹমাহاک کروز میزائلوں کا 30 فیصد حصہ حالیہ ہفتوں کی لڑائی میں خرچ کر دیا ہے۔
جدید جنگی سازوسامان کی تیاری اور ان کے ذخائر کو دوبارہ مکمل کرنے میں کئی سال لگتے ہیں، لیکن موجودہ جنگی صورتحال میں یہ ہتھیار تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ اس تمام صورتحال نے امریکی فوجی حکمت عملی پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں، جس کے تحت واشنگٹن ایک ہی وقت میں متعدد محاذوں پر جنگ لڑنے کی صلاحیت کا دعویٰ کرتا رہا ہے۔ اب پینٹاگون کے منصوبہ سازوں کے سامنے یہ بنیادی سوال کھڑا ہو گیا ہے کہ دنیا کی طاقتور ترین فوج بھی کیا بیک وقت اتنے وسیع پیمانے پر وسائل فراہم کر سکتی ہے یا اسے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے سخت فیصلے کرنا ہوں گے۔