Health
این ایچ ایس ٹرسٹ کا اعتراف: مردہ بچوں کی پیدائش کے معاملات میں غفلت
برطانیہ کے ایک این ایچ ایس ٹرسٹ نے مردہ بچوں کی پیدائش کے متعدد المناک واقعات میں خاندانوں کو مایوس کرنے کا باضابطہ اعتراف کر لیا ہے۔ ایک آزادانہ تحقیقاتی رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ انے والے ان مسائل کی جڑ میں نظامی خامیاں اور غفلت تھی۔
برطانیہ کے صحت کے نظام سے تعلق رکھنے والے ایک اہم این ایچ ایس (NHS) ٹرسٹ نے مردہ بچوں کی پیدائش (stillbirths) کے دردناک اور المناک واقعات پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بالآخر یہ اعتراف کر لیا ہے کہ انہوں نے متاثرہ خاندانوں کو بری طرح مایوس کیا۔ یہ اہم اعتراف ایک آزادانہ جائزہ رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد کیا گیا ہے، جس کا حکم خود ٹرسٹ کی انتظامیہ نے ہی دیا تھا تاکہ اس بات کی تہہ تک پہنچا جا سکے کہ آخر کیوں اتنی بڑی تعداد میں بچوں کی پیدائش کے دوران پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔ رپورٹ کے مطابق، ان دل دہلا دینے والے واقعات کے پیچھے کوئی ایک اکیلا عملہ یا حادثاتی وجہ کارفرما نہیں تھی، بلکہ اس کے قلب میں گہرے اور وسیع پیمانے پر موجود نظامی مسائل (systemic issues) پائے جاتے تھے۔ آزادانہ تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ہسپتال کے اندر انتظامی ڈھانچے، مریضوں کی دیکھ بھال کے معیار، اور مواصلاتی رابطوں میں سنگین نوعیت کی خامیاں موجود تھیں۔ ان خامیوں کی وجہ سے وقت پر مناسب طبی امداد یا قبل از وقت وارننگ کے نظام سے فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا، جس کے نتیجے میں کئی خاندانوں کو ناقابل تلافی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ متاثرہ والدین اور لواحقین نے طویل عرصے سے اس بات کا شکوہ کیا تھا کہ نظام نے ان کی داد رسی نہیں کی اور ان کے مطالبات کو نظر انداز کیا گیا۔ اب اس باضابطہ اعتراف کے بعد، متاثرہ خاندانوں نے مطالبہ کیا ہے کہ نہ صرف متعلقہ ذمہ داران کا کڑا محاسبہ کیا جائے بلکہ پورے صحت کے نظام میں ہنگامی بنیادوں پر اصلاحات نافذ کی جائیں تاکہ مستقبل میں کسی اور خاندان کو اس قسم کے کرب سے نہ گزرنا پڑے۔ این ایچ ایس ٹرسٹ کے اعلیٰ حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ رپورٹ میں درج کی گئی تمام سفارشات پر من و عن عمل درآمد کریں گے اور مریضوں کی حفاظت کو اپنی اولین ترجیح بنائیں گے۔