Sports
مانچسٹر سٹی اور مالیاتی قواعد، برنہم کا اظہارِ تشویش
مانچسٹر سٹی کے مالکان کی جانب سے قواعد کی خلاف ورزیوں کے بعد کلب فروخت کرنے کے امکان پر برنہم نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم نے ان الزامات کا موازنہ اپنے ہی کلب ایورٹن کی صورتحال سے کیا ہے۔
انگلش فٹ بال کی دنیا میں اس وقت ہلچل مچی ہوئی ہے جب مانچسٹر سٹی کے حوالے سے نئے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ برنہم نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اگر مانچسٹر سٹی کے مالکان قواعد کی خلاف ورزیوں کے تنازع کے بعد کلب کو فروخت کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو اس کے برطانوی فٹ بال پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے کلب کے مستقبل اور مداحوں کے جذبات پر گہرے اثرات پڑ سکتے ہیں، جو کہ کھیل کے لیے کسی بھی طرح سودمند ثابت نہیں ہوگا۔ یاد رہے کہ مانچسٹر سٹی کو اس وقت متعدد مالیاتی ضوابط کی خلاف ورزیوں کے الزامات کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے فٹ بال کے حلقوں میں طرح طرح کی چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں۔ دوسری جانب، وزیر اعظم نے ان تمام الزامات اور صورتحال کا موازنہ اپنے پسندیدہ کلب ایورٹن کی ابتر حالت سے کیا ہے، جس سے یہ معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ فٹ بال کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مانچسٹر سٹی کے مالکان واقعی کلب کو فروخت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو یہ پریمیئر لیگ کی تاریخ کا ایک بہت بڑا موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ کلب کے مداح بھی اس صورتحال پر کافی پریشان دکھائی دیتے ہیں کیونکہ وہ اپنے پسندیدہ کلب کو اس طرح کے انتظامی اور قانونی مسائل میں گھرا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید قانونی اور انتظامی پیشرفت متوقع ہے، جس پر پوری دنیا کے کھیلوں کے میڈیا کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں۔