Entertainment
اویسس بینڈ کا نایاب ٹیپس کی فروخت روکنے کے لیے قانونی قدم
مشهور برطانوی راک بینڈ اویسس نے اپنے غیر مطبوعہ اور نایاب آڈیو ٹیپس کی نیلامی کو رکوانے کے لیے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ نیلام گھر نے اس پیش رفت پر گہرے دکھ اور مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
برطانیہ کے دنیا بھر میں مقبول ترین راک بینڈز میں سے ایک اویسس (Oasis) نے اپنے غیر مطبوعہ اور نایاب آڈیو ریکارڈنگ ٹیپس کی کھلے عام فروخت اور نیلامی کو روکنے کے لیے باضابطہ طور پر قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ قدم بینڈ کی جانب سے اپنی فکری ملکیت اور نجی ریکارڈنگز کے تحفظ کے لیے اٹھایا گیا ہے تاکہ ان اہم مواد کو غیر مجاز ہاتھوں میں جانے سے روکا جا سکے۔ بینڈ کے حامیوں اور قانونی ٹیم کا ماننا ہے کہ اس طرح کی نایاب اشیاء کی عوامی سطح پر فروخت سے ان کے جملہ حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔
دوسری جانب، اس نیلامی کا انعقاد کرنے والے متعلقہ نیلام گھر (Auction House) نے اس صورتحال پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے پر انتہائی مایوس ہیں۔ نیلام گھر کے ترجمان کے مطابق یہ لاٹ اس قابل نہیں رہی کہ اسے اب فروخت کے لیے پیش کیا جا سکے کیونکہ بینڈ کے قانونی نوٹس اور کارروائی کے بعد تمام شیڈول تبدیل کرنے پڑے ہیں۔ نیلام گھر کا کہنا تھا کہ وہ موسیقاروں کے حقوق کا احترام کرتے ہیں تاہم اس نایاب مواد کے مارکیٹ میں نہ آسکنے سے شائقین موسیقی میں شدید مایوسی پھیلی ہے جو طویل عرصے سے ان نایاب ٹریکز کے منتظر تھے۔
اویسس بینڈ جو اپنے دور عروج میں دنیا بھر میں چھایا ہوا تھا، کے اس فیصلے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ آرٹسٹ اب اپنے پرانے اور غیر مطبوعہ مواد پر سخت کنٹرول چاہتے ہیں۔ یہ معاملہ موسیقی کی صنعت میں کاپی رائٹ اور آرٹسٹ کے ذاتی آرکائیوز کے حقوق کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مقدمات مستقبل میں دیگر موسیقاروں کے لیے بھی نجی ریکارڈنگز کے تحفظ کی نئی راہیں ہموار کریں گے۔
فی الحال، قانونی ٹیمیں اس سارے معاملے کا جائزہ لے رہی ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں اس قانونی کشمکش کے مزید حقائق سامنے آئیں گے۔ شائقینِ موسیقی اس تنازع کے باوجود اپنے پسندیدہ بینڈ کی ماضی کی یادوں کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے کسی قانونی حل یا باضابطہ اجراء کی امید لگائے بیٹھے ہیں، لیکن فی الحال غیر مطبوعہ ٹیپس کی فروخت کا باب مکمل طور پر بند ہو چکا ہے۔