World
برطانوی میوزیم میں نابینا افراد کے لیے بائیوکیس ٹیپسٹری کا آڈیو ٹور
برطانوی میوزیم نے ایک نابینا شخص کی قانونی کارروائی کی دھمکی کے بعد بائیوکیس ٹیپسٹری کا آڈیو کے ساتھ خصوصی دورہ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بصارت سے محروم افراد کو تاریخی فن پاروں تک بہتر رسائی فراہم کرنا ہے۔
برطانوی میوزیم نے ایک بصارت سے محروم شخص کی طرف سے قانونی کارروائی کی دھمکی موصول ہونے کے بعد بائیوکیس ٹیپسٹری کا خصوصی آڈیو کے ساتھ دورہ کرانے کا اعلان کیا ہے۔ اس اہم فیصلے کے بعد اب میوزیم میں آنے والے نابینا اور کم بینائی والے افراد اس تاریخی شاہکار کو بہتر طریقے سے سمجھ سکیں گے اور اس کی تاریخی اہمیت سے آگاہ ہو سکیں گے۔ یہ قدم ثقافتی اداروں میں تمام افراد کے لیے یکساں سہولیات کی فراہمی کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ سارا معاملہ اس وقت شروع ہوا جب ایک نابینا شہری نے میوزیم کی انتظامیہ کو قانونی نوٹس بھیجنے کی دھمکی دی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ بصارت سے محروم افراد کے لیے اہم تاریخی ورثے تک رسائی کے مساوی مواقع فراہم نہیں کیے جا رہے ہیں۔ قانون کے مطابق ثقافتی اور عوامی مقامات پر معذور افراد کے حقوق کا تحفظ لازمی ہے اور اس معاملے میں مبینہ غفلت برتی جا رہی تھی۔ قانونی چارہ جوئی کے خطرے کے پیش نظر میوزیم حکام نے فوری طور پر اس مسئلے کا حل نکالنے پر اتفاق کیا۔
اس نئے اقدام کے تحت ماہرین کی معاونت سے ایک تفصیلی آڈیو گائیڈ تیار کی جا رہی ہے جو بائیوکیس ٹیپسٹری کے ہر حصے، اس پر بنی ہوئی تصاویر اور گیارہویں صدی کے اس تاریخی واقعے کی مکمل منظرکشی کرے گی۔ آڈیو کے ذریعے بصارت سے محروم افراد نہ صرف اس فن پارے کی بناوٹ کو محسوس کر سکیں گے بلکہ اس کے پس منظر میں موجود تاریخی حقائق سے بھی پوری طرح روشناس ہو سکیں گے۔ میوزیم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں بھی ایسے اقدامات کو جاری رکھے گی تاکہ ہر خاص و عام کے لیے ثقافتی ورثے کے دروازے کھلے رہیں۔
اس فیصلے کو سماجی حلقوں اور معذور افراد کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی طرف سے سراہا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عجائب گھروں اور تاریخی مقامات پر ایسے انتظامات ہونا ناگزیر ہیں تاکہ معاشرے کا ہر طبقہ تاریخ اور ثقافت سے بھرپور انداز میں جڑ سکے۔ برطانوی میوزیم کی جانب سے یہ قدم دیگر بین الاقوامی اداروں کے لیے بھی ایک مثال بنے گا تاکہ وہ بھی اپنے ہاں رسائی کے نظام کو مزید جامع بنائیں۔