World
برطانوی ایئر بیس سازش میں ایران کے ملوث ہونے کے اشارے
برطانوی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ آر اے ایف فیئر فورڈ ایئر بیس کو نشانہ بنانے کی مشکوک سازش میں ایران کے ملوث ہونے کے واضح شواہد اور قوی اشارے ملے ہیں۔ اس حساس معاملے پر سکیورٹی ادارے گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور تحقیقات کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔
برطانیہ کے وزیراعظم نے حال ہی میں ایک اہم بیان دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ملک کے ایک حساس فوجی اڈے آر اے ایف فیئر فورڈ (RAF Fairford) پر حملے کی مشکوک سازش کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہونے کے 'قوی اشارے' موجود ہیں۔ اس بیان کے سامنے آنے کے بعد برطانوی سیاسی اور عسکری حلقوں میں شدید ہلچل مچ گئی ہے اور سکیورٹی کے انتظامات کو انتہائی سخت کر دیا گیا ہے۔ حکام اس معاملے کی تمام زاویوں سے باریک بینی سے جانچ پڑتال کر رہے ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، برطانوی انٹیلی جنس اور سکیورٹی ایجنسیوں نے اس ممکنہ سازش کا سراغ لگایا تھا، جس کے بعد حکومت کو اس حوالے سے باضابطہ بریفنگ دی گئی۔ فیئر فورڈ ایئر بیس برطانیہ کا ایک انتہائی اہم فوجی اثاثہ ہے اور اس نوعیت کے خطرات کو قطعی طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ وزیراعظم نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اس سازش کے تانے بانے مبینہ طور پر ایرانی عناصر سے ملتے ہیں۔
اس صورتحال نے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے کشیدہ سفارتی تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ان الزامات کی مزید تصدیق ہوتی ہے تو برطانیہ کی جانب سے تہران پر سخت سفارتی و معاشی دباؤ ڈالا جا سکتا ہے۔ برطانوی حکومت نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ اپنے دفاع اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور اس سازش میں ملوث تمام کرداروں کو بے نقاب کیا جائے گا۔
آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید اہم انکشافات متوقع ہیں جبکہ برطانوی پارلیمنٹ میں بھی اپوزیشن جماعتیں اس سکیورٹی لیپس اور خطرے کے حوالے سے حکومت سے جواب طلبی کی تیاری کر رہی ہیں۔ سکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو بروقت روکا جا سکے اور اہم تنصیبات کی فول پروف سکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔