LIVE
Loading Breaking News...

سعودی سلامتی اور حوثی کشیدگی پر شہزادہ محمد بن سلمان کا اہم بیان

News Image
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے واضح کیا ہے کہ حوثی باغیوں کے انتشار کا راستہ اختیار کرنے کے باوجود مملکت کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ترکی اور پاکستان کے ساتھ مکہ دفاعی معاہدے کا مقصد خطے میں استحکام لانا اور علاقائی سلامتی کو فروغ دینا ہے۔
ریاض: سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ مملکت اپنی سلامتی اور خودمختاری پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے مسلسل جارحیت اور انتشار پھیلانے کی کوششیں جاری ہیں۔ سعودی قیادت کا ماننا ہے کہ حوثی عناصر خطے میں امن کو سبوتاژ کرنے کے درپے ہیں اور وہ جان بوجھ کر تناؤ اور انتشار کا راستہ چن رہے ہیں۔ دوسری جانب، اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ دفاعی تعاون کو بھی مزید مستحکم کیا جا رہا ہے۔ اس تناظر میں ترکی اور پاکستان کے ساتھ حالیہ مکہ دفاعی معاہدے کو انتہائی اہمٹری اور اسٹریٹجک قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ سعودی ولی عہد کے مطابق، اس دفاعی معاہدے کا بنیادی مقصد خطے میں طویل مدتی استحکام کو فروغ دینا اور کسی بھی ممکنہ بیرونی یا اندرونی خطرے کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنا ہے۔ پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ کسی بھی تنازع کی صورت میں سعودی عرب کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور مملکت کی سلامتی کے لیے ہر حد تک جائے گا۔ پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی اس عزم کی توثیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان برادر اسلامی ملک سعودی عرب کی سالمیت کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔ جیو پولیٹیکل تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مکہ دفاعی اتحاد خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے اور عسکری تعاون کو مضبوط کرنے میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ حالیہ مہینوں میں حوثی باغیوں کی جانب سے خطے کے امن کو خراب کرنے والی کارروائیوں میں اضافے کے بعد، سعودی عرب نے اپنی دفاعی حکمت عملی کو مزید موثر بنانا شروع کر دیا ہے۔ ترکی جیسے اہم اتحادی اور پاکستان جیسے روایتی دوست ملک کی شمولیت سے اس دفاعی اتحاد کا پلڑا مزید بھاری ہو گیا ہے، جو کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سعودی حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ وہ خطے میں امن کی خواہش مند ہے لیکن کمزوری یا جارحیت کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ بین الاقوامی برادری اور علاقائی ممالک بھی اس بات پر متفق ہیں کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے پھیلائے جانے والے انتشار کو روکنے کے لیے مربوط اور مشترکہ کوششوں کی اشد ضرورت ہے۔ ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان یہ دفاعی تعاون نہ صرف عسکری حوالے سے اہم ہے بلکہ یہ اس عزم کا بھی مظہر ہے کہ مسلم دنیا کے اہم ممالک اپنے دفاع اور علاقائی امن کے لیے متحد ہیں۔