Pakistan
ایس سی او سمٹ: حکومت کا بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کا دفاع
حکومت نے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے لیے 45 بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کا بھرپور دفاع کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سال 2016 کے پرانے ماڈلز سکیورٹی کے جدید معیار پر پورا نہیں اترتے۔
حکومت پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے آئندہ سربراہی اجلاس کے لیے 45 نئی بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری پر ہونے والے اعتراضات کے جواب میں اپنا موقف واضح کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ خریداری ملک میں آنے والے غیر ملکی مہمانوں بالخصوص عالمی رہنماؤں کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے انتہائی ناگزیر تھی۔ اس حوالے سے واضح کیا گیا ہے کہ حکومت کے پاس پہلے سے موجود سنہ 2016 کے ماڈلز اب موجودہ دور کے جدید سکیورٹی تقاضوں اور بین الاقوامی معیار سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق مہنگے داموں اور اربوں روپے کی مالیت سے خریدی گئی ان بکتر بند اور بلٹ پروف گاڑیوں کا مقصد اعلیٰ سطح کے وفود کو فول پروف سکیورٹی فراہم کرنا ہے۔ ناقدین کی طرف سے اٹھائے جانے والے مالیاتی سوالات کے جواب میں حکومتی ترجمانوں کا کہنا ہے کہ قومی وقار، مہمانوں کی جان و مال کی حفاظت اور بین الاقوامی پروٹوکول پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا सकता۔ پرانی گاڑیوں میں نہ صرف تکنیکی خامیاں پیدا ہو چکی تھیں بلکہ وہ جدید نوعیت کے سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے بھی ناکافی تھیں۔
مزید برآں، انتظامیہ کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس نوعیت کے بڑے عالمی ایونٹس میں پاکستان کی سکیورٹی پالیسیوں کا عالمی سطح پر جائزہ لیا جاتا ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں منعقد ہونے والے اس اہم اجلاس میں دنیا بھر کے نامور رہنما شریک ہوں گے، جن کی نقل و حرکت کے لیے جدید ترین اور محفوظ ترین ذرائع نقل و حمل کی فراہمی میزبان ملک کی اولین ذمہ داری ہے۔ حکومت کے اس دفاعی بیان کے بعد امید کی جارہی ہے کہ اس معاملے پر جاری غیر ضروری بحث کا خاتمہ ہو جائے گا اور توجہ اصل قومی مفاد پر مرکوز رہے گی۔