World
عراق سے امریکی فوج کا انخلاء اور ایران کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ
عراق میں امریکی اور برطانوی افواج کا مشن باضابطہ طور پر ختم ہو گیا ہے جس کے بعد تمام غیر ملکی فوجی دستے ملک سے روانہ ہو چکے ہیں۔ اس انخلاء کے نتیجے میں خطے بالخصوص عراق میں طاقت کا توازن ایران کے حق میں منتقل ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
واشنگٹن اور لندن کی طرف سے جاری کردہ بیانات کے مطابق، عراق میں جاری عسکری مشن باضابطہ طور پر اپنے انجام کو پہنچ گیا ہے جس کے بعد امریکہ اور برطانیہ کے آخری فوجی بھی عراقی سرزمین سے روانہ ہو چکے ہیں۔ پینٹاگون کے ترجمان اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے اس پیشرفت کی تصدیق کر دی گئی ہے، جو خطے کی سیاست میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس فیصلے کے تحت دولتِ اسلامیہ کے خلاف قائم ہونے والے اتحادی مشن کا دائرہ کار سمیٹ لیا گیا ہے اور اب تمام تر سیکیورٹی کی ذمہ داریاں مقامی عراقی فورسز کے حوالے کر دی گئی ہیں۔
دوسری جانب، اس انخلاء کے بعد سیاسی اور دفاعی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی افواج کی موجودگی ایک توازن فراہم کر رہی تھی، اور ان کے جانے سے پیدا ہونے والے خلا کو پر کرنے کے لیے علاقائی طاقتیں متحرک ہو چکی ہیں۔ خصوصاً پڑوسی ملک ایران کا اثر و رسوخ عراقی سیاسی و عسکری منظر نامے میں مزید بڑھنے کے واضح امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ اس تبدیلی کو خطے میں طاقت کے توازن کی نئی تعریف قرار دیا جا رہا ہے جہاں تہران کو تزویراتی برتری حاصل ہو سکتی ہے۔
عراقی عوام میں اس صورتحال پر ملا جلا ردعمل پایا جاتا ہے۔ جہاں ایک طرف غیر ملکی افواج کے انخلاء پر خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے، وہیں دوسری طرف ایک ممکنہ سیکیورٹی خلا اور اندرونی عدم استحکام کے خدشات بھی عوام کے دلوں میں گھر کیے ہوئے ہیں۔ معاشی محاذ پر بھی چیلنجز برقرار ہیں کیونکہ عراق کی تیل کی آمدنی اور اس کے مالیاتی نظام پر تاحال بین الاقوامی دباؤ اور پیچیدگیاں حائل ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا انتہائی اہم ہوگا کہ عراقی حکومت اس نئے طاقت کے توازن میں اپنے ملک کی خود مختاری کو کیسے برقرار رکھتی ہے۔