LIVE
Loading Breaking News...

ایران جوہری معاہدہ: ٹرمپ کا تازہ پیشکش مسترد کرنے پر مذاکرات کار کا تبادلہ خیال

News Image
سال 2015 کے ایران جوہری معاہدے کے ایک اہم مذاکرات کار نے حالیہ پیشکش پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ردعمل اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ مبصرین کے مطابق تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی کوششیں تاحال کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی ہیں۔
سال دو ہزار پندرہ کے تاریخی ایران جوہری معاہدے کے ایک اہم مذاکرات کار نے حالیہ دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی سفارتی اور سیاسی کشیدگی پر اہم خیالات کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے پیش کی جانے والی تازہ ترین تجویز اور سیز فائر کی کوششوں کو مسترد کر دیا ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں ایک بار پھر محاذ آرائی کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اس پیشرفت سے خطے میں پہلے سے موجود تناؤ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ نیکسٹورا نیوز اردو کو موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق، خطے میں سٹریٹجک اہمیت کے حامل امور پر امریکہ اور ایران کے مابین لفظی جنگ میں بھی شدت آ گئی ہے۔ ایک طرف جہاں آبنائے ہرمز کے قریب ممکنہ پیشرفت کی بازگشت تھی، وہیں دوسری طرف واشنگٹن کی جانب سے موصولہ ردعمل نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ انہیں تازہ ترین تجاویز پر امریکی جواب مل گیا ہے، تاہم دونوں فریقین کے مابین مطالبات میں بنیادی اختلافات بدستور برقرار ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جوہری معاہدے کی بحالی اور خطے میں امن کے قیام کی کوششیں اس وقت شدید تعطل کا شکار ہیں۔ اس تناظر میں 2015 کے مذاکرات کار کا یہ تجزیہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ کس طرح عالمی طاقتیں اور فریقین اس سفارتی ڈیڈ لاک کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگرچہ مختلف بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر ثالثی کی کوششیں جاری ہیں، لیکن تازہ ترین امریکی فیصلے اور سخت بیانات نے فی الحال کسی بھی مثبت پیشرفت کے امکانات کو معدوم کر دیا ہے۔