Business
خام تیل کی تیزی: امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپیہ مزید کمزور
بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے اور عالمی معاشی دباؤ کے باعث انڈین روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں 23 پیسے کم ہو کر 95.96 پر بند ہوا۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کے بڑھتے ہوئے نرخوں کی وجہ سے کرنسی پر دباؤ برقرار ہے۔
بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافے اور عالمی معاشی چیلنجز کے گہرے ہونے کی وجہ سے انڈین روپے کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق انڈین روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں 23 پیسے گر کر 95.96 کی سطح پر بند ہوا۔ اس گراوٹ کے ساتھ ہی یہ ایشیائی کرنسیوں کی فہرست میں نچلے حصے کے قریب ترین کھڑا ہے، جو کہ ملک کی معاشی صورتحال کے حوالے سے اہم اشارہ ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق، خام تیل کے نرخوں میں مسلسل تیزی کی وجہ سے یو ایس ڈی اور آئی این آر (USD/INR) کا جوڑا اوپر کی طرف مائل ہے۔ تیل کی درآمدات پر زیادہ انحصار کرنے والے ممالک کی کرنسیوں پر اس صورتحال کا فوری اثر پڑتا ہے، جس سے تجارتی خسارہ بڑھنے کے خدشات بھی جنم لے رہے ہیں۔ ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) اس دباؤ کو کم کرنے اور مارکیٹ میں استحکام لانے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہا ہے تاکہ کرنسی کی قدر میں مزید بڑی گراوٹ کو روکا جا سکے۔
دوسری جانب، عالمی سیاسی و معاشی منظرنامے پر بھی سرمایہ کاروں کی گہری نظر ہے۔ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات میں کوئی بڑی پیش رفت یا سفارتی کامیابی حاصل ہوتی ہے، تو اس سے خام تیل کی قیمتوں میں کمی آ سکتی ہے اور مارکیٹ میں ڈالر کی بڑی سطح پر فروخت (selloff) دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ اس ممکنہ پیش رفت سے روپے کو سہارا ملنے کی توقع کی جا رہی ہے، تاہم فی الحال مارکیٹ میں غیر یقینی کی صورتحال برقرار ہے۔
تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک عالمی سطح پر توانائی کی قیمتیں مستحکم نہیں ہوتیں اور جغرافیائی سیاسی تناؤ میں کمی نہیں آتی، تب تک ابھرتی ہوئی معیشتوں کی کرنسیوں بالخصوص انڈین روپے کو دباؤ کا سامنا رہے گا۔ کاروباری حلقے آئندہ دنوں میں مرکزی بینک کے اقدامات اور تیل کی بین الاقوامی قیمتوں پر کہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ مستقبل کے معاشی فیصلوں کا تخمینہ لگایا جا سکے۔