Business
ایرانی تیل کی اسمگلنگ میں ساٹھ فیصد کمی، تیل کے شعبے کے ذرائع کا انکشاف
ذرائع کے مطابق بلوچستان کے اندر تیل بردار ٹینکرز کو نشانہ بنائے جانے کے بعد ایرانی تیل کی اسمگلنگ میں کم از کم ساٹھ فیصد کمی آ گئی ہے۔ اس غیر قانونی تجارت کے سست پڑنے سے ملک کے مختلف حصوں میں تیل کی سپلائی پر اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
کراچی: تیل کے شعبے سے وابستہ باخبر ذرائع کے مطابق ایران سے آنے والے اسمگل شدہ تیل کی آمد میں بڑی گراوٹ دیکھی گئی ہے کیونکہ بلوچستان کے اندرونی علاقوں میں تیل بردار ٹینکرز کو شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس غیر قانونی کاروبار سے وابستہ عناصر کو اس صورتحال میں بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ملک کی قانونی آئل کمپنیاں طویل عرصے سے اس اسمگلنگ کے خلاف آواز اٹھا رہی تھیں اور اسے بند کرنے کا پرزور مطالبہ کر رہی تھیں۔ تاہم، تہران پر جنگی صورتحال شروع ہونے اور عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں سو ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرنے کے بعد ایرانی پیٹرولیم مصنوعات کی آمد میں نمایاں اضافہ ہو گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران کم از کم چھ ایسے آئل ٹینکرز کو تباہ کر دیا گیا جو ایران سے آرہے تھے، اگرچہ اس کی سرکاری سطح پر حتمی تصدیق نہیں کی جا سکی۔ خطے میں جنگی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی توانائی کی رسد کے حوالے سے خدشات پیدا ہو گئے تھے۔ پاکستان کو بھی ایندھن کی درآمدات میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن خوش قسمتی سے ملک میں تیل اور گیس کی باقاعدہ راشننگ کی نوبت نہیں آئی۔ اس بحران کے دوران ملک میں پچیس دن کے ذخائر موجود رہے جبکہ جنگ کے دنوں میں مزید جہاز بھی پاکستانی بندرگاہوں پر لنگر انداز ہوئے۔
اس دوران اسمگل شدہ ایرانی تیل نہ صرف بلوچستان بلکہ سندھ کے راستے کراچی تک اور بالآخر پنجاب کے بڑے حصوں تک بھی باآسانی پہنچتا رہا، جس نے ملک کو پڑوسی ممالک جیسا کہ بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا کی طرح شدید تیل کے بحران اور راشننگ سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسمگلنگ کے سابقہ اور موجودہ تناسب کا قطعی تخمینہ لگانا مشکل ہے لیکن کاروباری حلقوں کا ماننا ہے کہ اس غیر قانونی سرگرمی میں کم از کم ساٹھ فیصد تک کمی واقع ہو چکی ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان نے مالی سال کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر بھاری زر مبادلہ خرچ کیا ہے جو مجموعی درآمدی بل کا ایک نمایاں حصہ بنتا ہے۔
تجارت اور صنعت کے حلقوں میں یہ عام تاثر پایا جاتا ہے کہ جنگی حالات اور ملک بھر میں ممکنہ قلت سے بچنے کے لیے حکام نے اس اسمگلنگ پر کچھ وقت کے لیے چشم پوشی برتی تھی۔ اگرچہ حکومت نے عالمی منڈی کے تناسب سے صارفین پر قیمتوں کا بوجھ ڈالا ہے، لیکن ساتھ ہی ملک میں ایندھن کی قلت جیسے سنگین بحران سے کامیابی کے ساتھ نمٹا بھی گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایرانی سرحد کے ساتھ ہونے والی اس غیر قانونی تجارت کی مالیت اربوں روپے سالانہ ہے اور اس میں تیل کے علاوہ اشیائے خورونوش اور دیگر روزمرہ کی اشیاء بھی شامل ہیں۔