World
امریکہ کا مشرق وسطیٰ سے اپنے شہریوں کو انخلا کا مشورہ
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال کے باعث امریکی سفارت خانوں نے خطے میں موجود اپنے شہریوں کو فوری طور پر علاقہ چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ دوسری جانب ایران کے فوجی حکام نے خبردار کیا ہے کہ جو بھی ملک امریکہ کی ڈھال بنے گا وہ جنگ کی لپیٹ میں آ جائے گا۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں امریکہ نے مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک میں قائم اپنے سفارت خانوں کے ذریعے خطے میں موجود امریکی شہریوں کو شدید خبردار کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ وہ ناگہانی صورتحال سے بچنے کے لیے جلد از جلد اس خطے سے نکلنے کی تیاری کریں۔ خطے میں بحرین، مصر، عراق، اسرائیل، اردن، کویت، لبنان، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں قائم امریکی سفارت خانوں نے آن لائن سیکورٹی الرٹس جاری کرتے ہوئے شہریوں کو ہوشیار رہنے اور پروازوں کی منسوخی یا فضائی حدود کی بندش کے لیے تیار رہنے کی تاکید کی ہے۔ اردن میں مقیم امریکیوں کو خصوصی طور پر ہدایت کی گئی ہے کہ وہ امریکی فوجی اڈوں کے قریب جانے سے گریز کریں جو حال ہی میں ایرانی میزائل حملوں کی زد میں آئے تھے، جبکہ اسرائیل میں انہیں قریبی بم شیلٹرز کی نشاندہی کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
ادھر ایران کے فوجی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایرانی فوجی کمان کے سربراہ علی عبداللہی نے سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکہ خطے میں تیزی سے تنازعہ کو بڑھا رہا ہے اور جو بھی ملک اس جارحانہ اور مجرمانہ امریکہ کے لیے دفاعی ڈھال کا کردار ادا کرے گا، وہ جنگ کے شعلوں میں لپٹ جائے گا۔ اس کے علاوہ ایران کے اعلیٰ عہدیداروں نے واضح کیا ہے کہ تہران کسی بھی بدترین صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری کر رہا ہے اور حکومت عوام کے تحفظ کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ وہ عسکری مساوات کے ساتھ ساتھ تاریخی پس منظر کے تحت اپنی دفاعی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔
دوسری جانب خطے میں عسکری سرگرمیاں اور بحری نقل و حرکت بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔ کویت کی فوج نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے ملک کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے نامعلوم اور دشمن ڈرونز کو تباہ کر دیا ہے، جن کے حملے سے ملک کی کچھ تنصیبات اور املاک کو جزوی نقصان پہنچا ہے تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ اس کے علاوہ عمان کے قریب ایک ٹینکر کو نامعلوم پراجیکٹائل لگنے کا واقعہ بھی پیش آیا ہے جس سے سمندری راستوں پر سیکورٹی کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق بحری ناکہ بندی اور تجارتی بحری جہازوں کے روٹس تبدیل کیے جانے کے بعد خطے میں تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہو چکی ہیں اور بین الاقوامی سطح پر بحران کے گہرے ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔