LIVE
Loading Breaking News...

ایچ آئی وی سے بچاؤ کا نیا انجیکشن اور اس تک رسائی کا مسئلہ

News Image
سال میں دو بار لگایا جانے والا نیا انجیکشن ایچ آئی وی کی روک تھام کے لیے ایک بڑی طبی پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ تاہم ماہرین صحت یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ دنیا بھر کے ضرورت مند لوگوں تک اس کی رسائی کیسے ممکن بنائی جائے گی۔
طبی دنیا میں ایچ آئی وی کی روک تھام کے حوالے سے ایک انتہائی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں سال میں صرف دو بار لگایا جانے والا ایک نیا انجیکشن اس موذی مرض کے پھیلاؤ کو روکنے میں سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ نئی پیش رفت وائرس کے خلاف لڑائی میں اب تک کی سب سے مؤثر اور قریب ترین کامیابی ہے جسے ویکسین کے متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ انجیکشن ان لوگوں کے لیے بالخصوص مفید ثابت ہو سکتا ہے جو روزانہ کی بنیاد پر احتیاطی ادویات استعمال کرنے سے قاصر ہیں۔ تاہم، اس سائنسی کامیابی کے بعد اب ایک بہت بڑا سوال یہ اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ اس تک دنیا بھر کے پسماندہ اور ضرورت مند طبقات کی رسائی کیسے ممکن ہوگی۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ جدید ترین طبی ایجادات اور ادویات کی قیمتیں اتنی زیادہ ہوتی ہیں کہ ترقی پذیر ممالک یا غریب طبقات کے لوگ ان تک رسائی حاصل نہیں کر پاتے۔ بین الاقوامی صحت کے ادارے اور تنظیمیں اب اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ اس دوا کی تیاری اور تقسیم کے عمل کو سستا بنایا جائے تاکہ اسے صرف امیر ملکوں تک محدود نہ رکھا جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومتوں اور بین الاقوامی دوا ساز کمپنیوں کو مل کر ایسی حکمت عملی تیار کرنی چاہیے جس کے تحت ہر خطے کے متاثرہ اور خطرے سے دوچار افراد کو یہ انجیکشن بروقت اور کم نرخوں پر مل سکے۔ بصورت دیگر، یہ شاندار طبی کامیابی بھی ان مخصوص طبقات تک محدود ہو کر رہ جائے گی جو پہلے ہی سے بہتر طبی سہولیات سے مستفید ہو رہے ہیں۔ آنے والے مہینوں میں اس حوالے سے پالیسی سازی اور عالمی سطح پر مذاکرات کا دائرہ کار وسیع کیے جانے کی توقع ہے۔