LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ میں ججوں کے خلاف اخلاقی شکایات، ٹرمپ انتظامیہ کا اقدام

News Image
امریکہ میں ٹرمپ انتظامیہ نے سات ججوں کے خلاف اخلاقی شکایات درج کروائی ہیں۔ یہ جج مبینہ طور پر صدر کی تارکین وطن کے خلاف کارروائی پر عوامی سطح پر بولے تھے۔
امریکہ میں ٹرمپ انتظامیہ نے ریاست مینیسوٹا کے سات ججوں کے خلاف باضابطہ طور پر اخلاقی شکایات دائر کی ہیں۔ یہ کارروائی اس وقت عمل میں لائی گئی جب ان ججوں نے مبینہ طور پر امریکی صدر کی جانب سے تارکین وطن کے خلاف شروع کیے جانے والے کریک ڈاؤن اور پالیسیوں کے حوالے سے عوامی اجتماعات اور میڈیا میں عوامی سطح پر تبصرے کیے تھے۔ قانونی ماہرین کے مطابق ججوں کی جانب سے اس قسم کے سیاسی یا انتظامی امور پر عوامی بیانات دینا عدالتی ضابطہ اخلاق کے خلاف ورزی کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ شکایت درج کرانے والے حکام کا موقف ہے کہ عدلیہ کی غیر جانبدار حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ جج کسی بھی فعال سیاسی معاملے یا حکومتی پالیسی پر ذاتی یا سیاسی نوعیت کے تبصرے کرنے سے گریز کریں۔ دوسری جانب قانونی حلقوں میں اس اقدام پر ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ کچھ حلقوں کا ماننا ہے کہ یہ ججوں کی آزادی اظہار رائے کا معاملہ ہے جبکہ بعض کا خیال ہے کہ اس سے عدلیہ کے وقار اور شفافیت پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ متعلقہ ججوں کو اب ان اخلاقی شکایات کا سامنا ہے اور عدالتی کونسل اس بات کا جائزہ لے گی کہ آیا ان بیانات سے ضابطہ اخلاق کی کوئی سنگین خلاف ورزی ہوئی ہے یا نہیں۔ اس پورے واقعے نے امریکہ میں عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان تعلقات اور حدود کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ آئندہ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید قانونی کارروائی متوقع ہے جس سے یہ طے ہوگا کہ ججوں کے لیے سیاسی اور انتظامی موضوعات پر اظہار خیال کی کیا حد بندی ہونی چاہیے۔