AI
امریکی ریگولیٹر کی اے آئی کمپنیوں کے خلاف تحقیقات
امریکی فیڈرل ٹریڈ کمیشن نے مصنوعی ذہانت پر کام کرنے والی کمپنیوں کے خلاف ایک اہم تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ قدم انسانیت کو لاحق ممکنہ خطرات اور خود مختار اے آئی ایجنٹس کے خدشات کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔
واشنگٹن (نیکسو را نیوز) امریکی ریگولیٹری ادارے فیڈرل ٹریڈ کمیشن (ایف ٹی سی) نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ترقی کرنے والی بڑی کمپنیوں کے خلاف باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا ہے جب دنیا بھر میں ماہرین اور قانون سازوں کی جانب سے اے آئی کے بے لگام استعمال اور اس کے انسانیت پر ممکنہ منفی اثرات کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ آنے والے ایک دہائی میں ٹیکنالوجی کی اس تیز رفتار ترقی کے باعث انسانی بقا اور سلامتی کو لاحق خطرات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق اس تحقیقات کا بنیادی مقصد یہ دیکھنا ہے کہ آیا اے آئی کمپنیاں اپنے صارفین کے حقوق کا تحفظ کر رہی ہیں یا نہیں۔ اس کے علاوہ خود مختار اے آئی ایجنٹس یعنی ایسے سسٹمز جو انسانی مداخلت کے بغیر خودمختار فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، کے پھیلاؤ کو بھی مانیٹر کیا جا رہا ہے۔ ایف ٹی سی اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ کیا یہ ٹیکنالوجیز منڈی میں اجارہ داری قائم کرنے یا صارفین کو گمراہ کرنے کے لیے تو استعمال نہیں ہو رہیں۔
ماضی قریب میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ہونے والی والہانہ سرمایہ کاری اور زبردست ترقی نے جہاں دنیا بھر میں معاشی انقلاب برپا کیا ہے، وہیں اس کے اخلاقی اور سلامتی کے پہلوؤں پر بھی بحث شروع ہو چکی ہے۔ دنیا بھر کے سائنسدان اور محققین بارہا اس بات کا انتباہ کر چکے ہیں کہ اگر اے آئی کی ترقی کو مناسب ضوابط کے تحت نہ چلایا گیا تو یہ آنے والے برسوں میں انسانی معاشرے کے لیے سنگین مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔
امریکہ کا یہ ریگولیٹری اقدام اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ حکومتیں اب ٹیکنالوجی کی دنیا میں من مانیوں کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ماہرین توقع ظاہر کر رہے ہیں کہ اس تحقیقات کے نتیجے میں آنے والے دنوں میں مصنوعی ذہانت کی صنعت کے لیے سخت ضابطے اور اصول و ضوابط مرتب کیے جائیں گے، جن کی پابندی ہر اے آئی کمپنی کے لیے لازمی ہوگی تاکہ مستقبل میں کسی بھی بڑے بحران سے بچا جا سکے۔