LIVE
Loading Breaking News...

سوڈانی نوجوانوں کا جنگ کے باوجود کاروبار اور انٹرپرینیورشپ کی طرف قدم

News Image
سوڈان میں جاری طویل جنگ کے باعث بے گھر ہونے والے نوجوانوں نے روزگار کے رسمی مواقع بند ہونے پر خود انحصاری کی راہ اپنا لی ہے۔ یہ نوجوان اپنی بقا اور معاشی استحکام کے لیے آرٹ، چھوٹے کاروبار اور انٹرپرینیورشپ کے شعبوں میں قسمت آزما رہے ہیں۔
سوڈان میں جاری تباہ کن جنگ نے لاکھوں شہریوں بالخصوص نوجوان طبقے کو شدید ترین اقتصادی اور سماجی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ ملک کے اندرونی حالات خراب ہونے اور روایتی نوکریوں کے ذرائع ختم ہو جانے کے بعد نوجوانوں نے بے بسی کے بجائے عملی اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ باصلاحیت سوڈانی نوجوانوں نے اپنی مشکلات کو مواقع میں بدلنے کی کوشش کرتے ہوئے آرٹ، دستکاری اور چھوٹے درجے کے کاروباری منصوبوں کا آغاز کر دیا ہے تاکہ اس کٹھن دور میں اپنے خاندانوں کا پیٹ پال سکیں۔ جنگ کی وجہ سے تعلیمی ادارے اور دفاتر بند ہو چکے ہیں، جس نے نوجوان نسل کے لیے فارمل جابز کے دروازے مکمل طور پر بند کر دیے ہیں۔ ان نامساعد حالات کے پیش نظر، متاثرہ علاقوں کے نوجوانوں نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، ہنر مندانہ صلاحیتوں اور روایتی کاریگری کو بنیاد بنا کر اپنے چھوٹے کاروباری یونٹس قائم کیے ہیں۔ ان اقدامات میں ہاتھ سے بنی اشیاء کی فروخت، مقامی آرٹ کی نمائشیں اور چھوٹی موٹی تجارتی سرگرمیاں شامل ہیں جو روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے کا واحد ذریعہ بن چکی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سوڈانی نوجوانوں کی یہ نئی لہر ان کے پختہ عزم اور زندہ رہنے کی ناقابل تسخیر صلاحیت کی عکاس ہے۔ حکومتی یا بین الاقوامی سطح پر روزگار کے محدود مواقع کے باوجود، یہ نوجوان خود انحصاری کی بہترین مثال قائم کر رہے ہیں۔ اس ابھرتی ہوئی انٹرپرینیورشپ نے نہ صرف معاشی دباؤ کو کم کرنے میں مدد دی ہے بلکہ جنگ زدہ معاشرے میں امید کی ایک نئی کرن بھی بیدار کی ہے، جو یہ ثابت کرتی ہے کہ مشکلات چاہے کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہوں، انسانی حوصلہ اور محنت کا سفر ہمیشہ جاری رہتا ہے۔