LIVE
Loading Breaking News...

ناروے میں جیفری ایپسٹین اسکینڈل: گیارہ اعلیٰ حکام کے خلاف تحقیقات شروع

News Image
ناروے کی حکومت نے جیفری ایپسٹین کے ساتھ مبینہ روابط اور تیرہ ملین ڈالر سے زائد کی سرکاری گرانٹس کے معاملے پر گیارہ اعلیٰ حکام کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ اس تحقیقات کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ ان فنڈز کا استعمال کس طرح کیا گیا اور کیا اس میں کوئی غیر قانونی سرگرمی شامل تھی۔
ناروے کے حکام نے متنازع امریکی شخصیت جیفری ایپسٹین کے ساتھ مبینہ روابط اور مالیاتی امور کی جانچ پڑتال کے لیے گیارہ اعلیٰ ترین سرکاری حکام اور وزراء کے خلاف باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا جب امریکی عدالت کی جانب سے جاری کردہ ایپسٹین کی فائلوں میں ناروے کے کچھ اعلیٰ حلقوں کے نام سامنے آئے، جس کے بعد ملک بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ تفتیش کار اس بات کا احاطہ کر رہے ہیں کہ آیا ان تعلقات کے نتیجے میں کسی بھی قسم کے ناجائز اثرات کا استعمال کیا گیا یا سرکاری وسائل کو غلط طریقے سے استعمال کیا گیا۔ اس تحقیقات کا ایک اہم مرکز تیرہ ملین ڈالر سے زائد کی وہ سرکاری گرانٹس ہیں جو مبینہ طور پر ایپسٹین اور اس کے نیٹ ورک سے جڑے ہوئے اداروں یا افراد کو فراہم کی گئیں۔ نارویجن حکام کا کہنا ہے کہ ان فنڈز کی تقسیم کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا اور تمام متعلقہ افراد سے بازپرس کی جائے گی۔ اس معاملے نے ناروے کے سیاسی منظرنامے میں ایک نیا پینڈورا باکس کھول دیا ہے کیونکہ اس میں کئی نامور شخصیات کے ملوث ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ متاثرہ حکام نے تاحال اس حوالے سے اپنے ردعمل میں کسی بھی قسم کی غلطی یا غیر قانونی فائدے کے حصول کی تردید کی ہے، تاہم عوامی دباؤ اور اپوزیشن کے شدید ردعمل کے پیش نظر حکومت کے لیے اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ناگزیر ہو چکی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ تحقیقات طویل ہو سکتی ہیں اور اس کے نتیجے میں ناروے کی اندرونی سیاست میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں یا استعفے دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر بھی اس خبر پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے کیونکہ جیفری ایپسٹین کا نیٹ ورک دنیا بھر کی کئی اہم شخصیات تک پھیلا ہوا تھا۔ ناروے میں شروع ہونے والی یہ تفتیش نہ صرف مقامی اداروں کی ساکھ کا امتحان ہے بلکہ یہ اس عزم کا بھی اظہار ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔ آنے والے دنوں میں اس تحقیقات کے نتائج کیا ہوں گے، یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن اس نے ناروے کے سیاسی اور بیوروکریٹک حلقوں میں ہلچل ضرور مچا دی ہے۔