LIVE
Loading Breaking News...

امریکی ایف سی سی کا ڈونلڈ ٹرمپ کے متنازع اشتہارات پر بیان

News Image
امریکی فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن کے سربراہ نے واضح کیا ہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متنازع ٹیلی ویژن اشتہارات سے کسی قسم کے قانونی یا ضابطہ جاتی خدشات جنم نہیں لیتے۔ عوامی فنڈز سے چلنے والی ان مہمات کو دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی طرف سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
امریکی فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن (FCC) کے سربراہ نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ متنازع ٹیلی ویژن اشتہارات ضابطہ کاری کے حوالے سے کوئی سنجیدہ تشویش پیدا نہیں کرتے۔ یہ اشتہارات، جو عوامی فنڈز کی مدد سے ٹیلی ویژن پر نشر کیے گئے تھے، حالیہ دنوں میں سیاسی حلقوں میں بحث کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں یعنی ریپبلکنز اور ڈیموکریٹس کی جانب سے ان اشتہارات کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے، کیونکہ ناقدین کا ماننا ہے کہ یہ عوامی وسائل کا استعمال کرتے ہوئے صرف ذاتی تشہیر کے مترادف ہیں۔ دوسری جانب، کمیشن کے سربراہ کا مؤقف ہے کہ ان اشتہارات کا جائزہ موجودہ قانونی اور ضابطہ جاتی حدود کے اندر کیا گیا ہے اور یہ نشریاتی قوانین کی کسی نمایاں خلاف ورزی کے زمرے میں نہیں آتے۔ عوامی فنڈز سے چلنے والے ان اسپاٹس کے حوالے سے پبلک سیکٹر میں بھی ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے سرکاری فنڈز کے شفاف استعمال پر سوالات اٹھتے ہیں، جو کہ جمہوری اقدار کے منافی ہو سکتے ہیں۔ اس سارے تنازعے کے باوجود، ایف سی سی کا یہ مؤقف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کمیشن کے پاس موجودہ اختیارات کے تحت ان اشتہارات پر پابندی عائد کرنے یا ان کے خلاف براہ راست کارروائی کرنے کی گنجائش محدود ہے۔ ناقدین اور حزب اختلاف کے رہنماؤں کا اصرار ہے کہ عوامی فنڈز کو اس طرح سیاسی یا ذاتی نوعیت کے مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے گریز کیا جانا چاہیے۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر سیاسی مباحثے میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے کیونکہ دونوں جماعتیں اس پر اپنا دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔