World
روس کا نیٹو کو انتباہ: کلیننگراڈ کی ناکہ بندی پر ایٹمی ردعمل کا خطرہ
ماسکو نے الزام عائد کیا ہے کہ نیٹو بحیرہ بالٹیک میں فضائی اور سمندری ناکہ بندی کی تیاری کر رہا ہے۔ روس نے واضح کیا ہے کہ اس نوعیت کے کسی بھی جارحانہ اقدام کا سخت اور ممکنہ طور پر ایٹمی جواب دیا جائے گا۔
ماسکو نے مغربی فوجی اتحاد نیٹو کو خبردار کیا ہے کہ اگر کلیننگراڈ کے روسی انکلیو کو کٹ آف کرنے یا اس کی ناکہ بندی کرنے کی کوئی کوشش کی گئی تو روس کی طرف سے انتہائی سخت اور ایٹمی ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔ روسی حکام کے مطابق اس وقت ماسکو کو یہ اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ نیٹو ممالک بحیرہ بالٹیک کے خطے میں ایک بڑی فضائی اور سمندری ناکہ بندی کی تیاریوں میں مصروف ہیں، جو کہ خطے کے امن کو شدید خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ روسی حکومت نے دوٹوک الفاظ میں واضح کر رکھا ہے کہ کلیننگراڈ کی سٹریٹجک اہمیت انتہائی زیادہ ہے اور اس کے زمینی یا بحری رابطوں کو منقطع کرنے کی ہر کوشش کو براہ راست روس کی خودمختاری پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق، یوکرین تنازع کے آغاز کے بعد سے روس اور نیٹو کے درمیان کشیدگی میں پہلے ہی نمایاں اضافہ ہو چکا ہے، اور اب اس طرح کے نئے محاذ کھلنے سے ایٹمی تصادم کا خطرہ خطرناک حد تک بڑھ سکتا ہے۔ روسی وزارت خارجہ اور عسکری قیادت اس صورتحال پر انتہائی باریک بینی سے نظر رکھے ہوئے ہے اور انہوں نے اتحادی ممالک کو پہلے ہی متنبہ کر دیا ہے کہ کسی بھی قسم کی عسکری غلطی کے تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے۔ دوسری جانب، نیٹو کی طرف سے ت حال ان الزامات پر کوئی حتمی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، لیکن بالٹیک کے خطے میں نیٹو کی بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیاں اور مشقیں ماسکو کے لیے مستقل تشویش کا باعث بنی ہوئی ہیں، جس سے دونوں فریقین کے درمیان تناؤ میں مزید شدت آنے کا خدشہ ہے۔