LIVE
Loading Breaking News...

برازیل سیاست: بولسونارو خاندان کا دائیں بازو کی سیاست پر راج

News Image
برازیل میں مسلسل تیسرے صدارتی انتخاب کے لیے بولسونارو خاندان کا ایک فرد دائیں بازو کا سب سے نمایاں امیدوار بن کر ابھرا ہے۔ یہ سیاسی تسلط ملک کے روایتی سیاسی منظر نامے میں اس خاندان کی گہری جڑوں اور مقبولیت کی عکاسی کرتا ہے۔
برازیل کی سیاست میں ایک بار پھر بولسونارو خاندان کا طوطی بول رہا ہے کیونکہ ملک کے صدارتی انتخابات کی دوڑ میں مسلسل تیسری بار اس خاندان کا کوئی نہ کوئی فرد دائیں بازو کے صف اول کے امیدوار کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ اس سیاسی رجحان نے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر مبصرین کی توجہ اپنی طرف مبذول کرا لی ہے اور یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ آیا یہ خاندان برازیل کی قدامت پسند سیاست کا مستقل مستقبل بن چکا ہے۔ سابق صدر جائیر بولسونارو کے سیاسی اثر و رسوخ کے بعد اب ان کے خاندان کے دیگر افراد بھی ملکی اقتدار کے ایوانوں میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، بولسونارو خاندان کی یہ مضبوط گرفت محض ایک اتفاق نہیں بلکہ برازیل کے ایک بڑے طبقے میں ان کے نظریات کی گہری جڑیں ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ملک کے دائیں بازو کے ووٹرز روایتی سیاست دانوں کے مقابلے میں اس خاندان کے بیانیے کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں، جس کی وجہ سے انتخابی میدان میں ان کا مقابلہ کرنا حریف سیاسی جماعتوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ انتخابی مہمات کے دوران اس خاندان کے ارکان کی طرف سے پیش کیے جانے والے معاشی اور سماجی نظریات نے نچلے اور متوسط طبقے کے ووٹرز کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ اس صورتحال کے تناظر میں، برازیل کا سیاسی مستقبل کافی حد تک اس بات پر منحصر ہے کہ یہ خاندان آنے والے دنوں میں اپنی مقبولیت کو برقرار رکھنے میں کتنا کامیاب ہوتا ہے۔ مخالفین اسے خاندانی بادشاہت قرار دے کر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، لیکن حامیوں کا ماننا ہے کہ یہ عوامی امنگوں کی حقیقی ترجمانی ہے۔ آنے والے صدارتی انتخابات یہ طے کریں گے کہ آیا برازیل کی سیاست میں بولسونارو خاندان کا یہ طویل اقتدار اور اثر و رسوخ مزید کتنے سالوں تک برقرار رہتا ہے۔