LIVE
Loading Breaking News...

آبنائے ہرمز میں تین بحری جہازوں پر نامعلوم پراجیکٹائلز سے حملے

News Image
آبنائے ہرمز میں ایک ہی دن کے دوران نامعلوم پراجیکٹائلز کے حملے سے خام تیل اور ایل این جی کے تین بڑے بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس واقعے کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اور بین الاقوامی سطح پر بحری سلامتی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایک انتہائی تشویشناک واقعے کے دوران تین بحری جہازوں کو نامعلوم پراجیکٹائلز کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ متاثرہ جہازوں میں خام تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے بڑے ٹینکرز بھی شامل ہیں۔ یہ تمام حملے محض ایک ہی دن کے اندر پیش آئے ہیں، جس نے خطے میں پہلے سے موجود بحری اور تجارتی نقل و حرکت کے تنازعات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO) اور دیگر متعلقہ اداروں نے بھی اس واقعے کی تصدیق کی ہے، جس سے عالمی منڈی میں توانائی کی سپلائی کے حوالے سے شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ حالیہ ہفتوں اور مہینوں کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان بحری نیویگیشن کے تنازعات اور خطے میں جاری کشیدگی کی وجہ سے پہلے ہی صورتحال کافی کشیدہ تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حملے عالمی تجارت اور بالخصوص مشرق وسطیٰ سے تیل اور گیس کی ترسیل کے اہم ترین گزرگاہ آبنائے ہرمز کی سلامتی پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتے ہیں۔ اگرچہ ابتدائی طور پر ان حملوں کے پیچھے کارفرما عناصر یا گروہوں کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا گیا، تاہم اس قسم کے واقعات سے 'جگہ کی دُھند' (Fog of War) میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اور بعض حملے کئی دنوں تک رپورٹ بھی نہیں ہو سکے۔ مختلف ذرائع کے مطابق، متاثرہ جہازوں میں شامل ایل این جی ٹینکر کو بھی نقصان پہنچا ہے جو کہ بین الاقوامی توانائی کی مارکیٹ کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ جہاز رانی کی کمپنیوں اور بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے بحری جہازوں کے لیے سکیورٹی الرٹس جاری کیے جا رہے ہیں تاکہ عملے کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے اور کسی بھی ممکنہ بڑے حادثے یا ماحولیاتی تباہی کو روکا جا سکے۔ تاحال کسی بھی فریق کی جانب سے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے، لیکن سلامتی کونسل اور دیگر عالمی ادارے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔