LIVE
Loading Breaking News...

ایستھر رینٹزن کا مشہور شو اور سر نکولس ونٹن کی تاریخی کہانی

News Image
برطانوی ٹیلی ویژن کی معروف شخصیت ایستھر رینٹزن کے کیریئر میں فروری 1988 کا وہ لمحہ انتہائی یادگار ثابت ہوا جب ان کے مقبول شو میں سر نکولس ونٹن کی داستان سامنے آئی۔ اس پُراثر پروگرام نے جنگ عظیم دوم کے دوران بچوں کی جان بچانے والے اس ہیرو کی خدمات کو پوری دنیا کے سامنے اجاگر کیا۔
برطانوی نشریاتی تاریخ میں کچھ لمحات ایسے ہوتے ہیں جو نہ صرف کسی فنکار یا میزبان کے کیریئر کی پہچان بن جاتے ہیں بلکہ وہ تاریخ کا حصہ بھی بن جاتے ہیں۔ معروف برطانوی صحافی اور ٹیلی ویژن پریزنٹر ایستھر رینٹزن کے کیریئر میں بھی ایسا ہی ایک ناقابل فراموش لمحہ فروری 1988 میں آیا جب ان کے انتہائی مقبول شو 'دیٹس لائف' (That's Life!) میں ایک ایسی کہانی نشر کی گئی جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ پروگرام عام طور پر ہلکے پھلکے اور تفریحی موضوعات کے لیے جانا جاتا تھا، لیکن اس خاص قسط میں پیش کی گئی سچی داستان نے اسے ایک تاریخی حیثیت دلوا دی۔ اس پروگرام کی مرکزی توجہ سر نکولس ونٹن کی حیرت انگیز اور بہادری پر مبنی زندگی تھی، جنہوں نے دوسری جنگ عظیم کے دوران چیکوسلوواکیا میں سیکڑوں معصوم بچوں کو نازی مظالم سے بچانے کے لیے اہم کردار ادا کیا تھا۔ سر نکولس ونٹن نے انتہائی خاموشی اور جرأت کے ساتھ ان بچوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا انتظام کیا تھا، لیکن طویل عرصے تک ان کی یہ خدمات پردہ خفا میں رہیں۔ جب فروری 1988 میں 'دیٹس لائف' کے پلیٹ فارم پر ان کی یہ داستانِ شجاعت دنیا کے سامنے لائی گئی، تو اس نے ناظرین کے دلوں کو گہرائی سے متاثر کیا۔ پروگرام کے دوران وہ جذباتی مناظر بھی دیکھنے کو ملے جب سر نکولس ونٹن بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے اردگرد وہی لوگ موجود تھے جن کی زندگیاں انہوں نے بچائی تھیں جب وہ چھوٹے بچے تھے۔ اس انکشاف نے نہ صرف اسٹوڈیو میں موجود افراد کو اشکبار کر دیا بلکہ برطانوی قوم کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا۔ ایستھر رینٹزن کی میزبانی میں پیش کیا جانے والا یہ ایپیسوڈ ان کے طویل اور کامیاب کیریئر کا سب سے نمایاں اور سنگ میل ثابت ہوا، جسے آج بھی احترام کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ اس نشریات کے بعد سر نکولس ونٹن کی بہادری قومی اور بین الاقوامی سطح پر موضوعِ بحث بن گئی، اور انہیں وہ پذیرائی ملی جس کے وہ حقیقی معنوں میں مستحق تھے۔ دوسری طرف، ایستھر رینٹزن کے لیے یہ لمحہ پیشہ ورانہ زندگی کا وہ عروج تھا جہاں ٹیلی ویژن نے محض تفریح فراہم کرنے کے بجائے ایک انسانی ہمدردی کی عظیم تاریخ کو زندہ کرنے کا فریضہ انجام دیا۔ آج بھی جب برطانوی ٹیلی ویژن کی تاریخ پر نظر ڈالی جاتی ہے تو 'دیٹس لائف' کا یہ ایڈیشن اور ایستھر رینٹزن کا کردار سنہرے حروف میں لکھا نظر آتا ہے۔